رسائی کے لنکس

خدشات پیچیدہ اور کئی ہیں۔ داعش کے انسداد کے لیے 68 ملکی اتحاد میں اختلافات نہ سلجھنے والی گتھیاں ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مختلف ترجیحات کے تانے بانے ہیں، اور خطے میں جغرافیائی اور سیاسی اہداف کے حصول کے لیے جہادیوں کے خلاف حربی طاقت کے استعمال میں رضامندی کا فقدان ہے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے انتہا پسند اسلامی دہشت گرد قوتوں کو شکست دینے کے عزم کا تقاضا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اتحادوں کی جوڑ توڑ اور رُخ بدلتی دھڑے بندی کی صورت حال سے نبرد آزما ہو۔

خدشات پیچیدہ اور کئی ہیں۔ داعش کے انسداد کے لیے 68 ملکی اتحاد میں اختلافات نہ سلجھنے والی گتھیاں ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مختلف ترجیحات کے تانے بانے ہیں، اور خطے میں جغرافیائی اور سیاسی اہداف کے حصول کے لیے جہادیوں کے خلاف حربی طاقت کے استعمال میں رضامندی کا فقدان ہے۔

یہ مشکلات یمن اور شام میں سب سے زیادہ ہیں جن میں امریکہ کے دو طویل مدتی اتحادی ملوث ہیں، یعنی نیٹو اتحادی ترکی اور سعودی عرب۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن اس ہفتے ترکی کا سفر کرنے والے ہیں، ایسے میں جب امریکی اور روسی فوجیں شام میں لڑائی سے الگ رہنے کے زون تشکیل دے رہی ہیں، تاکہ منبج کے شمالی قصبے میں ترکی کے حملے سے بچا جا سکے۔ منبج ترکی کی سرحد سے 40 کلومیٹر اندر واقع ہے، جس پر کرد افواج کا کنٹرول ہے، جسے امریکہ داعش کےخلاف لڑائی میں اہم بَری فوج خیال کرتا ہے۔

ترک شہروں میں داعش کے مہلک اور تباہ کُن خودکش بم حملوں کے سلسلے کے آغاز تک، ترک افواج کی کوشش رہی تھی کہ شام کے جہادیوں سے توجہ ہٹا کر کُردوں کو کمزور کیا جائے۔

داعش کے خلاف تیز کی کئی کارروائیوں کے باوجود، ترکی نے عزم کر رکھا ہے کہ کردوں کو شام کے تنازعے میں سرخرو ہونے سے باز رکھا جائے۔

کُردوں کے معاملے پر امریکہ اور ترکی کے مابین اختلافات اس نوعیت کے ہیں جسے یوں کہا جائے کہ ایک کا دہشت گرد دوسرے کے لیے آزادی دلانے والا سپاہی ہے۔

امریکہ کی طویل تاریخ رہی ہے کہ وہ کرد ثقافت اور قومی حقوق کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے، جس نے شمالی عراق میں ایک کرد ریاست کی داغ بیل ڈالی ہے۔


ایک طرف یہ اختلافات ہیں تو دسری طرف ایک بڑے ہاتھی سے دشمنی ہے؛ اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا لڑائی ختم ہونے کے بعد کیا شام، یمن اور عراق ملکی وجود باقی رکھ سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG