رسائی کے لنکس

نئی دہلی فسادات: 'عالمی برادری کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہے'


عمران خان کا کہنا ہے کہ نسل پرستانہ نظریات کا حامل گروہ جب بھی غالب آتا ہے خون ریزی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھارت میں فسادات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ نسل پرستانہ نظریات کا حامل گروہ جب بھی غالب آتا ہے خون ریزی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

بھارت میں متنازع شہریت بل کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہروں کا مرکز دارالحکومت نئی دہلی کے مسلم اکثریتی علاقے ہیں۔

مظاہروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی مرحلہ وار ٹوئٹس میں کہا کہ "آج ہم جوہری صلاحیت کے حامل ایک ارب سے زائد انسانوں پر مشتمل بھارت کی ریاست کو نازی ازم کی وارث آر ایس ایس کے ہاتھوں میں گرتا دیکھ رہے ہیں۔"

پاکسانی وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ میں اپنے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی کہیں ہوئی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ آج بھارت کی 20 کروڑ مسلمان آبادی نشانے پر ہے۔ لہذٰا یہ عالمی برادری کے لیے کچھ کرنے کا وقت ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ عمران خان، نریندر مودی اور اُن کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے ہیں۔

بھارت میں پرتشدد فسادات کا آغاز ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر بھارت میں موجود تھے۔

دورے کے دوران صدر ٹرمپ سے بھی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق سوال پوچھا گیا۔ جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ مذہبی آزادی سے متعلق اُن کی بھارتی وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے۔ لہذٰا وہ توقع کرتے ہیں کہ بھارت کی حکومت اپنے عوام کے بہترین مفاد میں فیصلے کرے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُنہیں فسادات کا علم ہوا ہے۔ لیکن وہ اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کر سکتے۔

نئی دہلی میں شہریت بل کے خلاف احتجاج فسادات میں تبدیل میں ہو گئے ہیں۔
نئی دہلی میں شہریت بل کے خلاف احتجاج فسادات میں تبدیل میں ہو گئے ہیں۔

بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف مظاہروں کا آغاز گزشتہ سال دسمبر میں ہوا تھا۔ ملک کے طول و عرض میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

البتہ، نئی دہلی میں اتوار کی شام سے شروع ہونے والے مظاہرے فسادات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ جس پر بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتیں بھی مرکزی حکومت سے نالاں ہیں۔

کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے بھارت کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG