رسائی کے لنکس

'نواز شریف کو احمدیوں سے متعلق بیان کا نوٹس لینا چاہیے'


عاصمہ جہانگیر (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کی ایک بلند آہنگ کارکن اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے رکن قومی اسمبلی محمد صفدر کے احمدی فرقے کے لوگوں سے متعلق دیے گئے بیان کا نوٹس لیں۔

نواز شریف کے داماد محمد صفدر نے منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے احمدیوں کو نظریہ پاکستان اور قوم کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی مسلح افواج میں بھرتیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کے اس بیان پر احمدی فرقے کے علاوہ ملک کے آزاد خیال حلقوں کی طرف سے خاصی تنقید سامنے آئی تھی۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ محمد صفدر نے ان کے بقول نفرت انگیز باتیں کیں اور یہ بیان صرف احمدیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک میں بسنے والی دیگر اقلیتوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

"میرا تو خیال ہے کہ ان (نواز شریف) کو نوٹس لینا چاہیے، آپ دنیا میں رہتے ہیں آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں کہ آپ کس قسم کی پارٹی ہیں۔ سب کو پتا ہے کہ ویسے ہی آرمی میں احمدی کوئی اوپر نہیں جا سکتا جج تو کوئی بھی احمدی نہیں تو آپ کس کو للکار رہے ہیں بجائے اس کے کہ اس چیز کے بارے میں کچھ سوچیں ہم کیوں امتیازی سلوک کر رہے ہیں وہاں آپ اور بھی امتیازی سلوک کرنا چاہتے ہیں۔"

پاکستان کے آئین کے مطابق احمدی غیر مسلم ہیں اور انھیں مسلمانوں کی طرح کھلے عام اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی ممانعت ہے۔ ایک عرصے سے پاکستان میں احمدی امتیازی سلوک اور مہلک رویوں کے شاکی رہے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کے خیال میں پاکستان میں آباد دیگر اقلیتوں کی نسبت احمدی سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا شکار چلے آ رہے ہیں اور رکن قومی اسمبلی کے اس طرح کے بیانات افسوسناک ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا احمدی برادری سے امتیازی سلوک کے بارے میں حکومتوں کا رویہ معذرت خواہانہ ہی رہا ہے۔

"بیشتر لوگ تو احمدی برادری کے پاکستان چھوڑ گئے ہیں یورپیئن ممالک میں امریکہ میں یا کینیڈا میں چلے گئے ہیں اور جو نہیں جاسکتے وہی یہاں رہ گئے ہیں ان کے ساتھ جو سلوک ہے وہ باقی اقلیتوں کی نسبت برا ہے اور اس پر ہر حکومت کی موجودہ حکومت بھی اور اس سے پہلے جو حکومتیں رہیں ہیں ان کا رویہ معذرت خواہانہ رہا ہے نہ تو وہ اس کی ترید کرتی ہیں نہ وہ اس پر کوئی ایکشن لیتی ہیں۔۔۔وہ خوفزدہ ہو جاتی ہیں کہ اگر ان (احمدیوں) کے حق میں کوئی بات کی تو شاید لوگ ان کے بھی خلاف ہو جائیں گے۔"

ادھر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ایسی متعصب سوچ کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

بدھ کو ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انھوں نے محمد صفدر کا نام لیے بغیر حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کا بھی کہنا تھا پارلیمان جو کہ انسانی حقوق اور آئین کا پاسدار ادارہ ہے اس میں اس طرح کی تقاریر پر دیگر ارکان کی خاموشی قابل افسوس ہے۔

حکومت یہ کہتی آئی ہے کہ وہ ملک میں آباد تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن تاحال اپنے اس ایک رکن قومی اسمبلی کے اس بیان پر ہونے والی تنقید کا اس کی طرح سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG