رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: فائرنگ کے واقعات کے بعد ٹرمپ ہدفِ تنقید


امریکہ میں ایک ہی روز میں پیش آنے والے فائرنگ کے دو مختلف واقعات کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ ان واقعات کے بعد ملک میں 'گن کنٹرول' کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔

ہفتے کو ٹیکساس کے شہر الپاسو کے ایک سپر اسٹور میں فائرنگ سے 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ واقعے کے 13 گھنٹے بعد ریاست اوہایو کے شہر ڈیٹن کے ایک مرکزی علاقے میں ایک مسلح شخص نے فائرنگ کرکے نو افراد کو قتل کردیا تھا۔

ایک ہی دن میں فائرنگ کے دو واقعات نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ دونوں واقعات ملک کی سیاست اور ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے ہیں۔

کئی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ری پبلکنز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آتشیں اسلحے پر کنٹرول سے متعلق قانون سازی پر مشاورت کے لیے امریکی سینیٹ کا اجلاس فوری طلب کریں۔

تاہم سینیٹ کے اکثریتی ری پبلکن رہنما مچ مکونیل نے تاحال ڈیموکریٹس کے اس مطالبے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خواہش مند کئی ڈیموکریٹ امیدواروں نے فائرنگ کے ان واقعات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نسل پرستی پر مبنی مبینہ پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بالواسطہ ان واقعات کے ذمہ دار ہیں۔

سابق نائب صدر جو بائیڈن، سینیٹر برنی سینڈرز، سینیٹر الزبتھ وارن ، پیٹ بٹیج اِج، بیٹو ررک اور سینیٹر کیری بکر نے صدر ٹرمپ کا نام لے کر کہا ہے کہ وہ امریکہ میں سفید فام نسل پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔

البتہ فائرنگ کے واقعات پر اپنے ردِ عمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ میں منافرت کی کوئی جگہ نہیں۔

اتوار کو ریاست نیوجرسی کے شہر مورس ٹاؤن کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی)، اٹارنی جنرل ولیم بر اور ارکانِ کانگریس سے اس بارے میں بات کی ہے کہ اس نوعیت کے تشدد کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

صدرنے کہا کہ ہمیں اس طرح کے واقعات کو روکنا ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں باضابطہ بیان دیں گے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی حکومت اس بارے میں کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صدر نے اپنی گفتگو میں مخالفین کے ان الزامات پر بھی کوئی ردِ عمل نہیں دیا جن کے بقول صدرکے تارکینِ وطن کے خلاف اور نسل پرستی کے دائرے میں آنے والے مبینہ بیانات نے ملک میں نسلی منافرت کو ہوا دی ہے۔

لیکن وائٹ ہاؤس کے قائم مقام چیف آف اسٹاف مک ملوانی نے ڈیموکریٹس کے موقف اور الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے ان واقعات میں "بیمار" افراد ملوث ہیں۔

اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'اے بی سی' سے گفتگو کرتے ہوئے ملوانی نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ یہ ایک سماجی مسئلہ اور اسے اسی طرح دیکھا جانا چاہیے۔

ڈیٹن میں فائرنگ کے بعد لاشیں جائے واقعہ سے اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں۔
ڈیٹن میں فائرنگ کے بعد لاشیں جائے واقعہ سے اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں۔

اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ ان دونوں واقعات میں نفسیاتی مسائل کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن دونوں واقعات کی تحقیقات کرنے والے حکام نے تاحال ملزمان کی ذہنی صحت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

حکام نے الپاسو کے 'وال مارٹ' میں فائرنگ کے واقعے کو داخلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر یہ نسل پرستی کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی لگتی ہے۔ پولیس نے فائرنگ کے ملزم کو جائے وقوعہ سے حراست میں لے لیا تھا جس کی شناخت 21 سالہ سفید فام پیٹرک کروسیس کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈیٹن میں فائرنگ کرنے والا ملزم بھی پولیس کی تحویل میں ہے جسے حکام نے 24 سال سفید فام کونر بیٹس کے نام سے شناخت کیا ہے۔

ڈیٹن پولیس کے سربراہ کے مطابق تاحال فائرنگ کے محرکات کا پتا نہیں چلا ہے اور ملزم سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

الپاسو کا شہر میکسیکو کی سرحد سے چند کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں کے 'وال مارٹ' میں ہونے والی فائرنگ میں مرنے والوں میں میکسیکو کے چھ شہری بھی شامل ہیں۔

میکسیکو کے وزیرِ خارجہ مارسیلو ایبرارڈ نے کہا ہے کہ ان کا ملک فائرنگ کرنے والے کو دہشت گرد سمجھتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ امریکہ سے ملزم کو میکسیکن حکومت کے حوالے کرنے کی درخواست بھی کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG