رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: فائرنگ کے 2 واقعات میں 29 افراد ہلاک، 40 سے زائد زخمی


فائرنگ کا پہلا واقعہ ریاست ٹیکساس کے شہر الپاسو اور دوسرا ریاست اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں پیش آیا، ٹیکساس میں فائرنگ کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس اور اوہائیو میں فائرنگ کے دو واقعات میں 29 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

فائرنگ کا پہلا واقعہ ہفتے کی دوپہر ریاست ٹیکساس کے شہر الپاسو کے سپر اسٹور 'وال مارٹ' میں پیش آیا جہاں لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ اس واقعے میں 20 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے۔

فائرنگ کا دوسرا واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ریاست اوہائیو کے شہر ڈیٹن کے ڈسٹرکٹ اوریگن میں پیش آیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 16 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق اس علاقے میں متعدد ریستوران ہیں تعطیلات کے باعث ہفتے کے اختتام پر یہاں خاصا رش ہوتا ہے۔

ڈیٹن کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ پولیس چیف لیفٹننٹ کرنل میٹ کارپر کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا گیا۔

والمارٹ شاپنگ مال میں فائرنگ کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔
والمارٹ شاپنگ مال میں فائرنگ کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔

​وال اسٹریٹ جرنل نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آور نے بڑی بندوق استعمال کی اور اس کے پاس متعدد راؤنڈز موجود تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں اور جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما تھے۔ پولیس کی جانب سے تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

ٹیکساس میں پیش آئے واقعے کے حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور دوپہر گیارہ بجے کے لگ بھگ ’والمارٹ‘ اسٹور میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد خریداری کے لیے آئے گاہک اور دکاندار اپنی جانیں بچانے کی کوششیں کرتے رہے۔

الپاسو شہر امریکہ اور میکسیکو کی سرحد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ آور کی شناخت پیٹرک کروسٹس کے نام سے ہوئی ہے اور اس کا تعلق ڈیلس سے بتایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق 'والمارٹ' میں لوگوں کی بڑی تعداد خریداری میں مصروف تھی جب خود کار بندوق بردار حملہ آور نے ان پر فائرنگ کر دی۔ کچھ دیر بعد پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جس کے بعد حملہ آور نے خود کو سرنڈر کر دیا۔

فائرنگ کے بعد پولیس نے شہریوں کو علاقے سے دور جانے کی اپیل کی تھی۔
فائرنگ کے بعد پولیس نے شہریوں کو علاقے سے دور جانے کی اپیل کی تھی۔

فائرنگ کے بعد والمارٹ اور اس سے ملحقہ دیگر کاروباری مراکز اور دکانیں بند کر دی گئیں جبکہ حکام لوگوں کو علاقے سے دور رہنے کی اپیل کرتے رہے۔

پولیس نے مزید حملہ آوروں کی موجودگی کے پیش نظر قرب و جوار کے علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا حملہ آور نے تن تنہا یہ اقدام کیا یا کسی اور نے بھی اس کی معاونت کی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ بڑی تعداد میں خون کا عطیہ دینے والے افراد اسپتال پہنچ گئے۔

پولیس حکام آن لائن پوسٹ کیے گئے سفید فام بالادستی سے متعلق نفرت انگیز مواد کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس پیغام کا تعلق اس حملہ آور سے ہے یا نہیں۔

عینی شاہدین المناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
عینی شاہدین المناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

اس پیغام میں رواں سال مارچ میں نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ کرنے والے شخص کی بھی حمایت کی گئی ہے۔

امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق وفاقی بیورو آف انویسٹی گیشن(ایف بی آئی) نے داخلی دہشت گردی کی بنیاد پر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

میکسیکو کے صدر نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں ان کے تین شہری ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو ئے ہیں۔

اس واقعے کو امریکہ کی حالیہ تاریخ کا آٹھواں بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے اس واقعے کو سفاکانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس نفرت انگیز اقدام کے خلاف امریکی عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ معصوم لوگوں کو ہلاک کرنے کی کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی۔

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہم انتہائی سرعت کے ساتھ یہ مقدمہ چلائیں گے۔ اس میں قتل عام اور نفرت پر مبنی جرم کی دفعات شامل کی جائیں گے جس کا بظاہر یہ واقعہ شاخسانہ لگتا ہے۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل بیٹو ارورکی نے، جو ٹیکساس سے ایوان نمائندگان کے رکن بھی رہ چکے ہیں، ایک صدارتی فورم کے دوران حاضرین کو اس حملے کی اطلاع دی۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ارورکی کے آنسو چھلک پڑے اور انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق سوچنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ الپاسو کے باسی ہمت والے ہیں۔ وہ ڈٹ کر اس مشکل کا مقابلہ کریں گے۔

متعدد دیگر ڈیموکریٹ پارٹی کے خواہشمند صدارتی امیدواروں نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG