رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ میں رپبلکن اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی بہتر کارکردگی کا امکان


واشنگٹن ڈی سی

ایسے میں جب امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے بارے میں ایک ریفرنڈم کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے نتیجے میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔

آج ہونے والی ووٹنگ میں ووٹر ایوان نمائیندگان کی تمام کی تمام 435 سیٹوں کیلئے نمائیندوں کا انتخاب کریں گے جبکہ سینیٹ کی کل 100 نشستوں میں سے 35 کا انتخاب ہو گا۔ اس کے علاوہ امریکہ کی کل 50 ریاستوں میں سے 36 نئے گورنر چنیں گی۔

انتخابی جائزوں اور تجزیہ کاروں کی آراء سے پتا چلتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کانگریس کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائیندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کی توقع ہے اور اس کیلئے اسے صرف مزید 23 حلقوں میں کامیابی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کیلئے رپبلکن پارٹی اپنی 51-49 کی معمولی اکثریت برقرار رکھنے یا اسے مزید بہتر کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کی طرف سے چلائی جانے والی بھرپور انتخابی مہم پر انحصار کر رہی ہے۔ سینیٹ کی جن 35 نشستوں کیلئے ووٹنگ ہو رہی ہے، اُن میں سے 26 ڈیموکریٹک پارٹی اور 9 رپبلکن پارٹی کے پاس تھیں۔

گورنروں کے انتخاب کے سلسلے میں ڈیموکریٹک پارٹی فلوریڈا، اوہائیو اور وسکانسن جیسی ریاستوں میں کامیابی کی اُمید رکھتی ہے۔

تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بات یقین سے نہیں کی جاسکتی آیا ڈیموکریٹک پارٹی ان انتخابات میں کچھ اضافی سیٹیں جیت کر رپلکن پارٹی سے کانگریس کا کنٹرول جیتنے میں کامیاب ہو گی یا پھر رپبلکن پارٹی اپنی موجودہ حیثیت برقرار رکھ پائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG