رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات، جیت کس کی ہو گی


پیر کے روز وائس آف امریکہ سے نشر ہونے والی راؤنڈ ٹیبل کے شرکاء اس بارے میں متفق تھے کہ امریکی تاریخ میں مڈ ٹرم انتخابات اتنے اہم کبھی بھی نہیں رہے جتنا کہ 2018 کے یہ انتخابات۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں امریکی شہری جتنے جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں اتنا ماضی میں کبھی بھی نہیں دیکھا گیا۔ راؤنڈ ٹیبل کے تمام شرکاء اس بارے میں ہم خیال تھے کہ ان انتخابات میں ڈیمو کرٹیک پارٹی کے لیے کئی وجوہات کی بنا پر کامیابی کے امکانات ری پبلیکن پارٹی کی نسبت زیادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کے تمام سروے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی دونوں ایوانوں میں جیت جائے گی تاہم اس کا انحصار اس پر ہو گا کہ لوگ کتنی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلتے ہیں۔

ری پبلیکن پارٹی کے ایم جے خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کے بنیادی ووٹرز ان کے ساتھ پوری وفاداری سے وابستہ ہیں لیکن اعتدال پسند ری پبلکنز ان کی پالیسیوں سے اتنے زیادہ خوش نہیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس مڈٹرم انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے شاید نہ نکلیں جو امکانی طور پر ڈیموکریٹس پارٹی کی جیت کی راہ آسان کر سکتی ہے۔

ڈیموکرٹیک پارٹی سے منسلک ہیوسٹن کے طاہر جاوید کا کہنا تھا کہ ان مڈٹرم انتخابات میں لوگ ری پبلکن یا ڈیمو کرٹیک پارٹی کے درمیان کوئی فیصلہ کرنے کے لیے سرگرم نہیں ہیں بلکہ وہ امریکہ کے اس چہرے کو واپس لانے کے لیے سرگرم ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں سے اور اپنے اقدامات سے تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کے امیدوار کو ووٹ دینے کا مطلب یہ دکھائی دیتا ہے کہ آپ سفید فارم بالا دستی کو سپورٹ کر رہے ہیں، آپ امیگریشن کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں، آپ مساوات کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں۔ آپ دیوار کھڑی کرنے کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں اور آپ نفرت کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں، تو یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت پوری قوم، خواہ وہ ری پبلکنز ہوں یا ڈیموکریٹس، وہ ان مڈٹرم انتخابات میں اپنے ووٹ ڈالنے کے لیے تاریخی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ وہ اس ملک کو اپنی نئی نسل کے لیے وقار کے ساتھ رہنے کی جگہ بنائیں۔

طاہر جاوید کا کہنا تھا کہ جہاں تک رزلٹ کی بات ہے تو شاید سینیٹ میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن ایوان میں ڈیموکریٹس جیت جائیں گے۔ اور ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے قوانین کو بننے سے روک سکیں جن پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مائل ہیں تو یہ ہی ان کی کامیابی ہو گی۔

ڈاکٹر سارہ خان کا کہنا تھا کہ اصل ری پبلکنز صدر کو ری پبلکن نہیں مانتے اور وہ ان کی پالیسیوں کو نہیں مانتے لیکن وہ اس لیے خاموش ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پارٹی جیت جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں معیشت بہتر ہوئی ہے اور بے روزگاری میں کمی ہوئی ہے تو پھر مڈٹرم انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت مشکوک کیوں دکھائی دے رہی ہے تو ڈاکٹر سارہ خان نے کہا کہ صدر اس بہتری کا کریڈٹ لے رہے ہیں حالانکہ بیشتر ماہرین اس پر متفق ہیں کہ معیشت میں یہ بہتری سابق صدر اوباما کی پالیسیوں کے اثرات کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے وگرنہ انہوں نے چین سے معاشی جنگ شروع کی، اور بہت سے ملکوں کے ساتھ، یورپی ملکوں کے ساتھ تعلقات خراب کیے ہیں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے الگ ہوئے ہیں اور ان کی خارجہ پالیسی کے اثرات نے معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔

ایم جے خان نے کہا کہ ا ن مڈٹرم انتخابات کا دنیا پر اثر ضرور ہو گا کیوں کہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے بہت سے دوست ملکوں کو دور کیا ہے اور اپنے روایتی مخالفین کے ساتھ ان کے تعلقات خاصے دوستانہ رہے ہیں مثلاً روس، تو ان تعلقات میں بھی تبدیلی آنے کے امکانات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹ جیت گئے جیسا کہ امکان نظر آرہا ہے تو ری پبلکنز کو اپنے اندر تبدیلی لانی پڑے گی جس کے نتیجے میں وہ 2020 کا الیکشن کافی تیاری سے لڑ سکیں گے۔

سحر خان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ اگر مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس جیت گئے تو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی آئے گی کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ڈیموکرٹیس ساری توجہ اندرون ملک کے معاملات پر مرکوز رکھیں گے تاکہ وہ 2020 کا انتخاب جیت سکیں۔

پرفیسر فیضان حق نے کہا کہ مڈ ٹرم انتخابات میں ڈیموکرٹیس جیتیں یا ری پبلکنز، دونوں صورتوں میں اس کے بین الاقوامی طور پر اثرات ہوں گے۔ اگر ری پبلکنز مڈٹرم انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور اگر و ہ نہیں جیتتے یا ڈیموکریٹس جیت جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو اپنے بین الاقوامی ایجنڈے پر ہاتھ روکنا پڑے گا۔

پروفیسر فیضان کا کہنا تھا کہ اگر ری پبلکن پارٹی دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار نہ رکھ سکی یا کمزور پڑ گئی تو صدر کے خلاف مواخذے کے امکان بڑھ جائیں گے اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی حکمت عملی یہ ہو گی کہ ان کے خلاف ایسے اقدامات ضرور ہو سکیں جن سے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کمزور تر ہو جائے اور ری پبلکن پارٹی میں انتشار پیدا کیا جائے تاکہ وہ 2020 کا انتخاب اپنے حق میں کر سکیں۔

تاہم طاہر جاوید کا خیال تھا کہ اگر ڈیمو کریٹک پارٹی ایوان میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو بھی وہ غالباً صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے پر مائل نہیں ہو گی کیوں کہ صدر ٹرمپ کے بعد بھی صدارت بہرطور ڈیمو کریٹس کو نہیں ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG