رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کے مواخذے کے ضابطہ کار کا اعلان


امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سرکردہ ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے سے متعلق الزامات کے دو ضابطہ کار طے کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے ذاتی سیاسی فائدے اور کانگریس کی انکوائری روکنے کے لیے عہدے کا غلط استعمال کیا۔

امریکہ کی 243 سالہ تاریخ میں یہ چوتھی موقع ہوگا کہ کسی صدر کے خلاف مواخذے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

ایوانِ نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی مواخذے کے ضابطوں کے طریقہ کار کو زیر غور لائے گی۔ کمیٹی کے سربراہ جیرولڈ نیڈلر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔

نیڈلر نے کہا کہ ’’یوکرین کو کلیدی فوجی امداد روک کر صدر ٹرمپ نے امریکہ کی قومی سلامتی اور 2020ء کے انتخابات کی حرمت کو خطرے میں ڈالا۔ وہ تسلسل کے ساتھ اپنی ذات کو ملک سے بالاتر رکھ رہے ہیں۔‘‘

انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف نے صدر ٹرمپ کے خلاف دو ہفتے سے جاری مواخذے کی کارروائی کی قیادت کی۔ انھوں نے صدر پر لگائے گئے الزامات کو ’’غالب اور مباحثے سے بالاتر‘‘ قرار دیا۔
اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے کوئی غلطی نہیں کی اور کانگریس میں ان کے ریپبلیکن حامیوں میں سے کسی نے بھی ان کا مواخذہ کرنے اور عہدے سے ہٹانے کی بات نہیں کی۔

الزامات لگائے جانے سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے خلاف مقدمے کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ایسے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی پاگل پن ہے جس نے بہتر نتائج راہم کیے، ملک کی تاریخ میں معیشت کو شاید مضبوط ترین سطح پر پہنچایا، جس کا عہد صدارت کامیاب ترین ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ جس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘‘

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انھوں نے اور ان کے اہم مشیروں نے کئی ماہ تک یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کیں کہ وہ 2020ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدوار اور سابق نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تفتیش کرے؛ اس کے ساتھ صدر ٹرمپ نے یوکرین کی فوجی امداد کی 39 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی رقم کو عارضی طور پر روکے رکھا۔ اس فوجی امداد کا مقصد مشرقی یوکرین میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف لڑائی میں مدد فراہم کرنا تھا۔

نیڈلر نے کہا کہ آئندہ چند روز کے دوران کانگریس میں ان کا پینل مجوزہ الزامات پر غور کرے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ اگلے ہفتے کے آخر میں مواخذے سے متعلق الزامات پر رائے شماری کی جائے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں سادہ اکثریت سے ووٹنگ ہوگی۔ اس کے بعد امکان ہے کہ ٹرمپ امریکہ کے تیسرے صدر ہوں گے جن پر مواخذے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
آخر میں یہ مقدمہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو سزا دینا یا عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں کیونکہ کسی ریپبلکن رکن نے اس کا مطالبہ نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG