رسائی کے لنکس

امریکی صدر کا مواخذہ: کیا جاننا ضروری ہے؟


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی جاری ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی نے معاملہ اب جوڈیشری کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ لہذٰا ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کو قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

امریکہ کے صدر کے خلاف نومبر میں شروع ہونے والی مواخذے کی کارروائی میں بہت سے اہم قانونی الفاظ استعمال کیے گئے۔ یہ الفاظ مواخذے کی کارروائی کے دوران زبان زدعام رہتے ہیں۔

Articles of impeachment (مواخذے کا متن)

مواخذے کے متن سے مراد وہ دستاویز ہے جس پر صدر کے خلاف الزامات درج ہوتے ہیں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اراکین یہ دستاویز تیار کرتے ہیں۔

ان الزامات میں جھوٹ بولنے سے لے کر غداری کے الزامات تک تحریر کیے جا سکتے ہیں۔

اگر گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ایوانِ نمائندگان کے اکثریتی اراکین مواخذے کے حق میں ووٹ دیں تو صدر کے خلاف فرد جرم عائد ہو جاتی ہے۔ اور یہ دستاویز مزید کارروائی کے لیے سینیٹ کو بھجوا دی جاتی ہیں۔

Bribery (رشوت)

امریکہ کے آئین میں صدر کے مواخذے کے لیے جن جرائم کی فہرست دی گئی ہے۔ اس میں رشوت بھی شامل ہے۔ اس کے تحت اگر وفاقی حکومت کا کوئی اہلکار اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی اثر و رسوخ رکھنے والے شخص کو رقم یا کوئی قیمتی تحفہ دے تو یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔

Civil officers of the United States ( امریکہ کے سرکاری افسران)

امریکی قانون کے مطابق کسی بھی سرکاری اہلکار، ججز، قانون سازوں یا امریکی حکومت کے کسی بھی افسر کا بھی مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔ یا وفاقی حکومت کے وہ افسران جن کا مواخذہ ہو سکے وہ سرکاری افسران کی فہرست میں آتے ہیں۔

High crimes and misdemeanors (سنگین جرائم اور بدعنوانی)

امریکی قانون کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے کسی خاص جرم کی وضاحت نہیں کی گئی۔ امریکی آئین میں درج نہیں کہ سنگین جرائم یا بدعنوانی میں کون کون سے جرائم شامل ہیں۔ البتہ قانون دانوں کی جانب سے جن جرائم کی تشریح کی گئی ہے۔ ان میں اختیارات کے ناجائز استعمال، عہدے میں رہتے ہوئے جھوٹ بولنا یا کسی دوسرے ملک کے لیے جاسوسی کرنا اور رشوت دینا یا وصول کرنا جیسے الزامات شامل ہیں۔

Impeachment (مواخذہ)

امریکی ایوانِ نمائندگان کے کسی بھی رکن کی جانب سے کسی بھی سرکاری اہلکار کے خلاف الزامات کو ایوان میں پیش کرنا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان منظوری دے تو مذکورہ شخص کو عہدہ چھوڑنا پڑتا یا مواخذہ ہو جاتا ہے۔ درحقیقت اس پر فرد جرم عائد ہوتی ہے اور معاملہ سینیٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے۔

جہاں ٹرائل کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسے عہدے سے ہٹانا چاہیے یا نہیں۔

Pardon (معاف کرنا)

امریکی قانون کے مطابق مواخذے کے بعد اگر کسی بھی سرکاری اہلکار کو سزا ہوتی ہے یا اسے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔ تو صدر کو حاصل اختیار کے تحت اس کی سزا معاف کی جا سکتی ہے۔ لیکن امریکی آئین اس معاملے پر خاموش ہے کہ آیا صدر خود اپنی سزا بھی معاف کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے 1970 میں امریکی محکمہ انصاف نے اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کو ایک میمو بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے تحت کوئی بھی شخص اپنی ذات کا منصف نہیں ہو سکتا۔

Quid pro quo (کوئیڈ پرو کو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی لاطینی زبان کے جملے 'کوئیڈ پرو کو' کے گرد گھوم رہی ہے۔

امریکی آئین کے تحت اگر کوئی بھی سرکاری اہلکار کسی چیز کے بدلے دوسرے فریق سے کوئی رعایت طلب کرے تو یہ اس زمرے میں آتا ہے۔

صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی دھمکی دے کر یوکرین کے صدر سے جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات شروع کرنے پر زور دیا تھا۔

Removal vs. disqualification (ہٹائے جانا یا نا اہلی)

اگر امریکہ میں صدر سمیت کسی بھی اہلکار کے خلاف مواخذے کی کارروائی میں امریکی سینیٹ کثرت رائے سے یہ فیصلہ دے کہ جرم ثابت ہو گیا ہے۔ تو مذکورہ شخص کو عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹ اس بات کا بھی تعین کر سکتی ہے کہ اسے کیا سزا دی جائے اور آئندہ وہ کوئی وفاقی عہدہ رکھنے کا مجاز نہیں ہو گا۔

قانون کے مطابق سینیٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی وفاقی عہدہ رکھنے والے شخص کو ہٹائے یا نااہل قرار دے۔

Standard vs. burden of proof (اسٹینڈرڈ یا برڈن آف پروف)

امریکی آئین کے تحت سینیٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ غداری، رشوت یا بغاوت کے الزامات کے تحت سزا دے۔ لیکن آئین میں کسی خاص سزا کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لہذٰا امریکی سینیٹ گواہوں کے بیانات اور الزامات کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کرتی ہے کہ کیا ملزم کے خلاف اتنا مواد موجود ہے کہ اس کا مواخذہ کیا جائے۔

Supermajority (دو تہائی اکثریت)

آئین کے تحت اگر امریکی سینیٹ کے دو تہائی اراکین مواخذے کے حق میں ووٹ دیں تو ہی مواخذے کا عمل مکمل ہو گا۔ صرف اسی صورت میں اسے سزا یا عہدے سے ہٹایا جا سکے گا۔

Treason (غداری)

مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے غداری کے الزام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد ملک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونا یا ملکی مفادات کے خلاف دشمن ملک سے سمجھوتا کر لینا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

آئین میں کہا گیا ہے کہ یہ جرم ثابت کرنے کے لیے دو گواہوں کے کھلی عدالت میں اعترافی بیانات ضروری ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کیوں ہو رہی ہے؟

امریکہ کے صدر پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر اور 2020 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے متوقع حریف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرائیں۔

صدر ٹرمپ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے دباؤ ڈالنے کے لیے یوکرین کی فوجی امداد روکنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ البتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات اور ٹوئٹس کے ذریعے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو مذاق اور انتقامی کارروائی قرار دیتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG