رسائی کے لنکس

logo-print

مصر میں قید آسٹریلوی صحافی کی ملک بدری کی درخواست


الجزیرہ ٹی وی چینل کے ایک ترجمان نے کہا کہ مصری حکام ان صحافیوں کو فوری طور پر رہا کریں نہ کہ "اس بے انصافی کو جاری رکھیں اور دنیا کے سامنے اپنے ملک کے تشخص کو نقصان پہنچائیں"۔

مصر میں قید آسٹریلوی صحافی پیٹر گریسٹے کے خاندان نے کہا ہے کہ ان کے وکیل نے ان کی ملک بدری کی درخواست دی ہے۔

ملک بدری کی درخواست مصر کی ایک اعلیٰ عدالت کی طرف سے الجزیرہ کے صحافی پیٹر گریسٹے اور ان کے دیگر دو ساتھیوں مصری نژاد کینیڈین شہری محمد فہمی اور مصری شہری باہیر محمد کا مقدمہ دوبارہ چلانے کے حکم کے بعد دی گئی۔

گریسٹے کے بھائی نے جمعہ کو آسٹریلیا میں کہا کہ اب ان کے بھائی کی آسٹریلیا واپسی کی امید کا دارومدار حال ہی میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک حکم پر ہے جس کے مطابق وہ غیر ملکی مشتبہ ملزموں کو ملک بدر کر سکتے ہیں۔

پیٹر کے بھائی اینڈریو گریسٹے نے کہا کہ اب جبکہ پیٹر "بے قصور ہے، وہ سزا یافتہ نہیں ہے" ان کے بقول اس وجہ سے اب یہ گنجائش موجود ہے کہ اس بارے میں اقدام کیے جا سکتے ہیں جس کے تحت مصری صدر مداخلت کر کے اپنے اختیار استعمال کرتے ہوئے انہیں ملک بدر کر سکتے ہیں۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشپ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پیٹر کی ملک بدری کی کوشش کی جارہی ہے۔

"انہوں (مصر) نے حال ہی میں قانون میں تبدیلی کی ہے جس کے تحت ایک طرح سے قیدی کو منتقل کیا جا سکتا ہے یا پھر ایک ملزم کو ایک دوسرے ملک جو اس کا اپنا ملک ہو، میں منتقل کیا جا سکتا ہے اور اب ہم ان تمام امکانات کو دیکھ رہے ہیں"۔

مصر کی اعلیٰ عدالت نے ابھی تک ان کے مقدمے کے دوبارہ سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

ان تینوں صحافیوں کو دسمبر 2013 میں قاہرہ کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ کام کر رہے تھے۔ گزشتہ سال جولائی میں ایک مصری عدالت نے انہیں کالعدم اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کے جرم میں سزا سنائی تھی ۔

عدالت نے گریسٹے اور فہمی کو سات سال اور باہیر محمد کو دس سال قید کی سزا دی تھی۔

الجزیرہ ٹی وی چینل کے ایک ترجمان نے کہا کہ مصری حکام ان صحافیوں کو فوری طور پر رہا کریں نہ کہ "اس بے انصافی کو جاری رکھیں اور دنیا کے سامنے اپنے ملک کے تشخص کو نقصان پہنچائیں"۔

قطر میں قائم الجزیرہ نیٹ ورک کا موقف ہے کہ تینوں صحافی کالعدم اخوان المسلمین اور سابق صدر محمد مورسی کی حمایت نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ خبریں دینے کی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG