رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ سے بے دخل 52 پاکستانی اسلام آباد پہنچ گئے


فائل فوٹو

امریکہ اور پاکستان کے درمیان ویزہ معاملات پر تنازعے کی وجہ بننے والے پاکستانی شہریوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے پہلے مرحلے میں 52 پاکستانی اسلام آباد پہنچے ہیں۔

ڈی پورٹ کئے جانے والے افراد میں 2014 میں اسپین میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے امریکہ لایا جانے والا شخص پیرزادہ خواجہ عبدالحمید چشتی بھی شامل ہے۔

بے دخل کئے جانے والے پاکستانی شہریوں کی فہرست میں 53 افراد کے نام شامل تھے لیکن ایک شخص برکت کریم بھائی کو آخری وقت پر طبعیت خراب ہونے کے باعث روک لیا گیا۔

پیرزادہ خواجہ عبدالحمید چشتی کے ساتھ پیرزادہ خواجہ عبدالوہاب چشتی کو بھی 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا جو اس وقت بھی امریکی حکام کی تحویل میں ہے۔

عبدالحمید چشتی پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکہ کی طرف سے کالعدم اور دہشت گرد قرار دی گئی تنظم ریوولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا کو زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل اور بھاری مقدار میں منشیات فراہم کی تھیں۔

سال 2014 میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران دو اور پاکستانی سہیل کاسکر اور علی دانش کو بھی حراست میں لیا گیا تاہم حمید اور وہاب کو امریکی حکام کی درخواست پر امریکہ منتقل کردیا گیا تھا۔ جہاں امریکی عدالتوں میں حمید چشتی اور وہاب چشتی کے خلاف چار سال تک مقدمات چلے اور آخر کار عبدالحمید چشتی کو ڈی پورٹ کردیا گیا۔

پاکستان پہنچنے کے بعد ان تمام افراد کو ایف آئی اے کے انسانی اسمگلنگ سیل میں منتقل کیا گیا جہاں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو جانچ پڑتال اور پاکستان میں ان کی تمام تر تفصیلات حاصل کرنے کے بعد جانے کی اجازت دیدی گئی۔ جبکہ حمید چشتی اور کچھ دیگر افراد کو ایف آئی اے نے اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

بے دخل افراد کی فہرست میں چار افراد کو جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام پر ڈی پورٹ کیا گیا۔ ان میں عامر گل خان نامی ایک شخص بھی شامل ہیں جسے بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں امریکہ بدر کیا گیا ہے۔

زیادہ تر افراد کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ بدر کیا گیا ہے جبکہ بعض افراد کو جعل سازی، دھوکہ دہی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث ہونے پر ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

ان افراد کو واپس لینے کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔

امریکی حکام نے ان پاکستانیوں کی تفصیل پاکستانی وزارت داخلہ کو بھجوائی تھی جس پر سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اعتراض کیا تھا۔

چوہدری نثار کا موقف تھا کہ اکثر ممالک جہاز بھر کر غیرقانونی تارکین وطن یا جرائم پیشہ افراد کو پاکستانی قرار دے کر بھجوا دیتے تھے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ جب تک کسی شخص کے پاکستانی ہونے کی مکمل تصدیق نہیں ہوجاتی اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔

امریکہ کی جانب سے اب تک 90 سے زائد افراد کی فہرست پاکستان کو دی گئی تھی جن کی شہریت کی تصدیق کے حوالے سے امریکی حکام کے مطابق پاکستان کی طرف سے تاخیر سے کام لیا جارہا تھا۔

ایف آئی اے کی جانب سے زیر حراست افراد سے تفتیش کا عمل جاری ہے جس کے بعد انہیں رہا کیے جانے یا عدالتوں میں پیش کیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG