رسائی کے لنکس

ترقیاتی فنڈز کیس: 'لگتا ہے وزیرِ اعظم نے فنڈز دینے کا راستہ کھلا رکھا ہے'


سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وزیرِاعظم کے سیکرٹری کی طرف سے بھجوایا گیا خط مسترد کر دیا۔ حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کسی رکنِ اسمبلی کو پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی، عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

دورانِ سماعت وزیرِاعظم کے سیکرٹری کا خط عدالت میں پیش کیا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ وزیرِاعظم کے سیکرٹری کا خط کس نے ڈرافٹ کیا؟ خط کی انگریزی درست نہیں ہے اور خط میں عدالتی سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو معلوم ہے کہ سرکاری فنڈز کا غلط استعمال نہیں کیا جا سکتا کسی رکنِ اسمبلی کو پیسہ نہیں دیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اراکینِ اسمبلی کی ترقیاتی اسکیموں پر عمل آئین سے مشروط ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ لگتا ہے وزیرِاعظم نے عدالتی فیصلہ ٹھیک سے نہیں پڑھا۔ وزیرِاعظم نے شاید فنڈز دینے کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کی۔

جسٹس فائز نے کہا کہ ہر روز وزارتِ اطلاعات سے معلومات کی بھرمار ہوتی ہے، اخبار میں جو خبر شائع ہوئی ہے اگر وہ غلط ہے تو وزارتِ اطلاعات یا وزیرِاعظم نے اب تک اس اخباری خبر کی تردید کیوں نہیں کی۔ سارے میڈیا نے خبر چلا دی اور وزیراعظم خاموش ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وزیرِاعظم ہر خبر کی تردید کرنے لگ گئے تو کوئی اور کام نہیں کر سکیں گے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیرِاعظم یا اپنی بات پر قائم رہیں یا کہہ دیں کہ ان سے غلطی ہو گئی، وزیرِاعظم اپنے سیکریٹری کے پیچھے کیوں چھپ رہے ہیں؟

عمران خان ماضی میں ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
عمران خان ماضی میں ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

دورانِ سماعت صوبوں کی طرف سے بھی اس معاملے پر جواب جمع کروائے گئے۔سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے بھی ترقیاتی فنڈز سے متعلق جواب مانگ لیا۔ چیف جسٹس جسٹس گلزار نے کہا کہ سندھ حکومت آج ہی جواب جمع کرائے تاکہ کل تک جائزہ لے سکیں۔

اس موقع پر صوبائی حکومت کے وکیل نے کہا کہ سندھ حکومت نے کسی رکن اسمبلی کو فنڈز نہیں دیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کو جواب تحریری طور پر جمع کرانا چاہیے تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مطابق کسی رکن اسمبلی کو فنڈز نہیں دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری خزانہ سے واضح جواب طلب کر لیا اور حکم دیا کہ سیکرٹری خزانہ کی رپورٹ پر وزیراعظم کے بھی دستخط ہوں۔

اس سے قبل وزیرِاعظم کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کے کیس میں بلوچستان حکومت نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔ بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلی سمیت کسی رکنِ اسمبلی کے پاس صوابدیدی فنڈز نہیں ہیں۔ بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 106 ارب روپے ہے اور اس ترقیاتی بجٹ میں وفاق اور غیر ملکی امداد بھی شامل ہے۔

اسی کیس میں خیبر پختونخوا حکومت نے بھی جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اراکینِ اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز پہلے ہی ختم کیے جا چکے ہیں۔

جواب میں کہا گیا کہ وزیرِاعلی سمیت اراکین اسمبلی کا ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں کوئی کردار نہیں۔ اعلٰی عدلیہ کے حکم پر وزیرِاعلی کی ہدایت پر صوابدیدی فنڈز ختم کیے گئے۔

وزیراعظم کا اراکین اسمبلی کو صوابدیدی فنڈز دینے کا اعلان

گزشتہ ماہ 27 جنوری کو اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں اور اپنی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کے دوران سینیٹ انتخابات کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے ارکانِ اسمبلی کو 50،50 کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈ دینے کا اعلان کیا۔

اس اعلان کے بعد ان پر اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔

ارکانِ اسمبلی کو فنڈز جاری کرنے کے معاملے پر اپوزیشن وزیرِ اعظم پر تنقید کر رہی ہے۔
ارکانِ اسمبلی کو فنڈز جاری کرنے کے معاملے پر اپوزیشن وزیرِ اعظم پر تنقید کر رہی ہے۔

اس معاملے پر تین فروری کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور اس بارے میں چیف جسٹس کو لارجر بینچ بنانے کی درخواست کی تھی۔ اس معاملے پر وفاق اور صوبوں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور ان سے جواب طلب کیا گیا تھا۔

پاکستان میں حکومت کی طرف سے اپنے اراکین اسمبلی کو صوابدیدی فنڈز پہلی مرتبہ جاری نہیں ہو رہے بلکہ ماضی میں بھی یہ فنڈز جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیرِاعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف صوابدیدی فنڈز جاری کرنے پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس میں کارروائی کے بعد ان کے خلاف فوج داری قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس افتخار چوہدری نے رقم کا اجرا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضابطے اور قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے قومی خزانے کے 52 ارب روپے لٹا دیے گئے۔

پاکستان میں ماضی کی حکومتوں کی طرف سے اپنے ارکان کو یہ فنڈز دینے کا کہا جاتا رہا ہے۔

سال 2018 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کے بعد موجودہ حکومت نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ 2013 سے 2018 کے درمیان نواز شریف نے 21 ارب، صدر نے آٹھ سے نو کروڑ اور ارکانِ اسمبلی نے 30 ارب روپے کے فنڈز استعمال کیے۔

آئین کا آرٹیکل 164 کیا کہتا ہے؟

ان فنڈز کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت کسی بھی منصوبے کے لیے فنڈز جاری کیے جا سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 164 میں لکھا ہے کہ وفاق یا صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹس دے سکتا ہے۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے۔

اس بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل اظہر صدیق ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق وفاقی یا صوبائی حکومتوں کو صوابدیدی فنڈز دینے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

اُن کے بقول سوال اکثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے صرف اپنی حمایت کرنے والے ارکانِ اسمبلی کو فنڈز دیے جاتے ہیں اور اپوزیشن کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ میں حالیہ کیس بھی اسی حوالے سے ہے کہ آیا اپنی پسند یا ناپسند کی وجہ سے کسی شخص کو فنڈز دیے جانے چاہیئں یا نہیں اس بارے میں عدالت میں کیس چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر حکومت کسی بھی منصوبے کے لیے رقم مختص کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ لیکن ماضی میں ایسے پیسوں اور ایسے منصوبوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور ان سے سیاسی فوائد اٹھائے گئے۔

سینیٹ الیکشن اور صوابدیدی فنڈ

حکومت کی جانب سے اس فنڈ کے اعلان کو سینیٹ انتخابات سے جوڑا جارہا ہے۔ ان انتخابات کے حوالے سے ان دنوں حکومتی اور اپوزیشن رہنما ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان انتخابات کو شفاف بنانے کی خاطر اوپن بیلٹ چاہتی ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ سپریم کورٹ بھی گئی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کے اپنے ارکان انہیں ووٹ نہیں دینا چاہتے اور اس خدشہ کے پیشِ نظر حکومت اوپن بیلٹ کروانا چاہ رہی ہے۔

ماضی میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے پیسے کے استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں سال 2018 کے سینیٹ انتخابات کے دوران ایم پی ایز کو پیسے دینے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔

مذکورہ ویڈیو میں ارکانِ اسمبلی کروڑوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی۔ ماضی کی یہ ویڈیو اگرچہ اب سامنے آئی ہے لیکن اس وقت پی ٹی آئی نے اپنے 20 اراکینِ صوبائی اسمبلی کو اس معاملے پر فارغ کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG