رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ماننے کو تیار کیوں نہیں؟


فائل فوٹو

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوانی کی رپورٹ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار گزشتہ دورِ حکومت کے ہیں۔

حکومتی وزرا نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ مرتب کی گئی وہ 2017، 2018 اور 2019 میں اکٹھا کیا گیا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ مکمل طور پر تاثرات پر مبنی تحقیق ہے۔

‏اُن کے بقول ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں اُس وقت کا ڈیٹا شامل کیا ہے جب اُن کی حکومت نہیں تھی۔

بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے 'ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل' نے جمعرات کو جاری اپنی رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں ہر سطح پر رشوت ستانی موجود ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی۔ جس کے مطابق پاکستان انڈیکس میں چار درجہ تنزلی کے بعد 120 سے 124 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ رپورٹ میں ایک سو اسی ممالک میں بدعنوانی سے متعلق تاثر کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس اعتبار سے کل ایک سو اسی پوانٹس رکھے گئے ہیں۔ کسی بھی ملک میں کرپشن کو جانچنے کا کلیہ یہ رکھا گیا ہے کہ جس قدر کرپشن کے تاثر کے پوائنٹس زیادہ ہوں گے، اس ملک میں اس قدر زیادہ کرپشن خیال کی جائے گی۔ اس طرح پاکستان میں کرپشن کے تاثر کی درجہ بندی میں تنزلی آئی ہے اور کرپشن انڈیکس میں چار پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

حکمراں جماعت 'پاکستان تحریکِ انصاف' ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کا عزم لے کر 2018 میں برسرِ اقتدار آئی تھی۔ تاہم اس کے دو سالہ دور میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی درجہ بندی میں پاکستان کی مجموعی طور پر سات درجے تنزلی ہوئی ہے۔

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لانے کے لیے جمعے کو قومی اسمبلی میں تحریکِ التوا بھی جمع کرا دی ہے۔

تحریکِ التوا میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے بعد پاکستان کے کرپٹ ملک ہونے کے تاثر میں سات درجے اضافہ ہو چکا ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی بدعنوانی میں اضافے سے متعلق رپورٹ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس رپورٹ کو عمران خان حکومت کی کرپشن کا عالمی ثبوت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ 90 دن میں کرپشن ختم کرنے کا جھوٹ بولنے والوں کے لیے آئینہ ہے۔

اُن کے بقول 2018 میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کے بارے میں تاثر 117 پوائنٹ تھا اور اب 124 پوائنٹ پر پہنچ چکا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے عمران خان کی حکومت کے جھوٹے دعوﺅں کا پول کھول دیا ہے۔

اُن کے بقول وزیرِ اعظم عمران خان اور نیب کے دعوﺅں کے برعکس پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ صادق اور امین ہونے کی دعویدار حکومت نے کرپشن میں تیزی سے ترقی کی ہے۔

'نیب اقدامات کے باوجود بدعنوانی میں اضافہ ہوا'

پاکستان میں بدعنوانی کے تدارک کے لیے قائم ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) نے بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نیب کی گزشتہ دو سال کی غیر معمولی کوششوں کو سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے پر یقین رکھتا ہے تاکہ لوٹی گئی رقم وصول کی جاسکے جب کہ نیب مقدمات میں سزا کی شرح 68.8 ہے۔

تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چیئرمین سہیل مظفر کہتے ہیں کہ نیب کے غیر معمولی اقدامات کے باوجود ملک میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔

اپنے ایک بیان میں اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس میں نیب نے کرپشن کے 365 ارب روپے جب کہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 300 سو ارب روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن اس کے باوجود بدعنوانی میں پاکستان کا درجہ بندی خراب ہوئی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل دنیا بھر میں کرپشن اور بدعنوانی کی فہرست مرتب کرتے وقت مختلف ممالک کو شفاف حکومتی نظام اور کرپشن کے لحاظ سے ایک سے دس کے پیمانے پر جانچتا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انڈیکس میں کون سا ملک کہاں کھڑا ہے؟

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2020 کے مطابق پاکستان کے حکومتی اداروں میں ایمان دارنہ اور شفاف طریقۂ کار کے لحاظ سے تاثر پر مرتب کی گئی۔ پاکستان 180 ممالک کی فہرست میں 124 درجے پر آ گیا جو کہ گزشتہ برس 120 نمبر پر تھا۔ اس طرح ملک میں کرپشن ہونے کے تاثر میں چار درجے اضافہ ہوا ہے۔

کرپشن انڈیکس میں پاکستان کا اسکور 100 میں سے 31 ہے جو گزشتہ برس 32 پر تھا۔

پاکستان کو اس عالمی فہرست میں قازقستان، میکسیکو اور کینیا کے ساتھ رکھا گیا ہے جن کا کرپشن اسکور 31 اور رینکنگ 124 ہے۔

دوسری جانب بھارت کے اسکور میں بھی ایک پوائنٹ کی کمی ہوئی اور یہ 41 سے کم ہو کر 40 ہو گیا جب کہ بھارت کرپشن انڈیکس میں 80 ویں درجے سے گر کر 86 نمبر پر پہنچ گیا۔

خطے کے دیگر ممالک میں ایران اور نیپال کا اسکور ایک درجے جب کہ ملائیشیا کا دو درجے کم ہوا۔ البتہ افغانستان کا اسکور تین درجے اور ترکی کا ایک درجہ بہتر ہوا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں صومالیہ اور جنوبی سوڈان کرپٹ ترین ملک قرار دیے گئے ہیں جب کہ نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کرپشن کے خلاف 88 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر رہے۔

کینیڈا اور برطانیہ 77 پوائنٹس کے ساتھ 11 ویں، امریکہ 67 پوائنٹس کے ساتھ 25 ویں، سنگاپور 85 اور متحدہ عرب امارات کے 71 پوائنٹس رہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 2020 کے انڈیکس میں شامل ممالک میں سے دو تہائی کا اسکور 50 سے کم رہا جب کہ اوسط اسکور 43 تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG