رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع میں ترقیاتی عمل سست روی کا شکار


فائل فوٹو

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو 2018 میں عام انتخابات سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ لیکن وعدوں اور اعلانات کے باوجود ان علاقوں میں ترقیاتی کام اور فلاح و بہبود کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

خیبر پختونخوا کے رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں سات قبائلی اضلاع اور چھ ‘فرنٹیر ریجنز‘ کے لیے مجموعی طور پر 83 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن اب تک صرف 26 ارب روپے ہی مختلف محکموں کو فراہم کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ابھی تک فراہم کردہ رقم میں سے صرف 13 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ باقی رقم وفاق اور صوبائی حکومت کو واپس جانے کا اندیشہ ہے۔

ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے صحافی شمس مہمند کے مطابق قبائلی اضلاع کے ضم ہونے سے قبل بھی یہی صورتِ حال تھی۔ اس وقت وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے لگ بھگ 24 ارب روپے مختص کیے جاتے تھے۔ مختص رقم خرچ کرنے کا تناسب کبھی بھی 50 فی صد سے زیادہ نہیں رہا تھا۔

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد ان اضلاع کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا نام تبدیل کرکے 'تیز رفتار عملی منصوبہ بندی' کا نام دیا گیا ہے۔ مگر نام تبدیل ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے سالانہ تین فی صد حصہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فراہم کرنے اعلان کیا تھا۔ یہ رقم سالانہ 100 ارب روپے بنتی ہے۔ مگر ابھی تک وعدے کے مطابق یہ رقم ضم شدہ اضلاع کے لیے فراہم نہیں کی گئی۔

حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ضلع باجوڑ سے رکن صوبائی اسمبلی انجینئر اجمل خان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اپنے حصے کی رقم فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاق سمیت کوئی بھی صوبہ قومی مالیاتی کمیشن کے تین فی صد میں اپنا اپنا حصہ نہیں دے رہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ابھی تک انضمام کے باوجود ضم شد ہ اضلاع میں لگ بھگ 12 محکموں کے نہ تو دفاتر ہیں اور نہ عملہ۔ (فائل فوٹو)
سرکاری دستاویزات کے مطابق ابھی تک انضمام کے باوجود ضم شد ہ اضلاع میں لگ بھگ 12 محکموں کے نہ تو دفاتر ہیں اور نہ عملہ۔ (فائل فوٹو)

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی صدارت میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی فنڈز کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ ہفتے ایک اجلاس بھی ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران جاری کردہ فنڈز کا 88 فی صد جب کہ پچھلے فنڈز کا 68 فی صد خرچ کیا جا چکا ہے۔

اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے آخر تک فراہم کردہ تمام رقوم کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ تاہم ‘انصاف روزگار اسکیم’ کے لیے مختص کردہ 91 فی صد اور ریسکیو کے لیے مختص کردہ 88 فی صد فنڈز استعمال کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 83 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی گئی تھی۔

وفاقی حکومت نے غیر ملکی امداد اور دیگر فنڈز سے 32 ارب 85 کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا۔حکام کے مطابق وفاقی وزارتِ ترقی اور منصوبہ بندی نے یہ رقم خیبر پختونخوا حکومت کو فراہم کر دی ہے۔ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے قبائلی علاقوں کے لیے رواں مالی سال میں 26 محکموں کے ذریعے رقم خرچ کر رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق انضمام کے باوجود ضم شدہ اضلاع میں ابھی تک لگ بھگ 12 محکموں کے نہ تو دفاتر ہیں اور نہ ہی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ ان محکموں میں ٹرانسپورٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بہبودِ آبادی، معدنیات، قانون، لائیو اسٹاک، اوقاف، ریونیو، ماحولیات اور ایکسائز شامل ہیں۔

انجینئر اجمل خان کا کہنا ہے کہ پچھلے مالی سال کے نسبت اس سال ضم شدہ اضلاع میں ہونے والے ترقیاتی عمل میں تیزی آئی ہے۔

ان کے بقول ترقیاتی عمل اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ محمود خان نے منتخب اراکین اسمبلی پر مشتمل ضلعی ترقیاتی مشاورتی کمیٹیاں بھی قائم کی ہیں۔

حزبِ اختلاف میں شامل جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مفتی عبد الشکور کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ تمام علاقوں کے حالات جوں کے توں ہیں۔

قبائلی اضلاع میں آج بھی تھری جی یا فور جی کی سروس دستیاب نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)
قبائلی اضلاع میں آج بھی تھری جی یا فور جی کی سروس دستیاب نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)

مفتی عبدالشکور نے حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور عہدیداروں پر بدعنوانی کے الزامات بھی لگائے۔ جس کی انجینئر اجمل خان نے تردید کی اور کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبے انتہائی شفاف طریقے سے زیرِ تکمیل ہیں۔

مفتی عبدالشکور کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے رہنما اور عہدیدار مختلف محکموں کے افسران کی ملی بھگت سے ترقیاتی منصوبوں کو فروخت کرتے ہیں اور ان منصوبوں کی صرف خانہ پری کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت ترقیاتی عمل میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی اسمبلی اور سرکردہ قبائلی رہنماؤں کی آرا کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ضم شدہ قبائلی اضلاع میں محکمہ تعلیم کے لیے فراہم کردہ تین ارب 68 کروڑ روپے میں سے پچھلے 10 ماہ میں صرف 54 کروڑ اور محکمہ صحت کے لیے مختص ایک ارب 75 کروڑ میں سے محض 37 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت کے محکمہ خزانہ نے پہلے ہی سے تمام محکموں کو استعمال نہ ہونے والے فنڈز کو رواں سال جون کے پہلے ہفتے میں واپس کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اسلام گل آفریدی کا کہنا ہے کہ ابھی تک قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے اداروں اور اس سے منسلک افسران اور اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے یہاں پر ترقیاتی کاموں کی رفتار انتہائی سست ہے۔

ضم شدہ اضلاع میں امن و امان قائم کرنے والی روایتی خاصہ دار اور لیویز فورسز کو صوبائی پولیس میں ضم کیا جا چکا ہے۔ مگر ابھی تک ان اداروں سے منسلک اہلکاروں اور عہدیداروں کو پولیس اہلکاروں جیسی تربیت دینے کے لیے بھی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے لگ بھگ 27 ہزار اہلکار اور ان کے رشتہ دار بھی مستقبل کے حوالے سے پریشان ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG