رسائی کے لنکس

بھارت دہشت گردوں کو فنڈنگ، تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے: پاکستان کا الزام


فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے دعویٰ کیا کہ رواں برس نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت دہشت گردی اور بد امنی کو ہوا دینے کے لیے انتہا پسند تنظیموں کی فنڈنگ کر رہا ہے جب کہ افغانستان میں قائم اس کے قونصل خانوں کے پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

یہ الزامات پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ہفتے کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران عائد کیے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے دعویٰ کیا کہ رواں برس نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد اور اسلحہ فراہمی کے ثبوت موجود ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور کالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔

ان کے بقول افغانستان میں بھارت کے سفارت خانے اور قونصل خانے، پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کے سفارت خانے میں تعینات بھارتی کرنل راجیش دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور چار بار دہشت گردوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے حال ہی میں داعش کے 30 دہشت گردوں کو پاکستان اور ارد گرد منتقل کیا ہے جب کہ کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی کا ذکر کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' نے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی۔ اجمل پہاڑی نے بھارت میں ٹریننگ لینے کا اعتراف کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے دیگر ممالک میں فنڈنگ کر رہی ہے۔ بلوچستان میں چین پاکستان اقتصادی راہ داری کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت نے خصوصی ملیشیا بنائی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند ڈاکٹر اللہ نذر کے 'را' کے ساتھ رابطوں کی آڈیو موجود ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر ڈاکٹر اللہ نذر کی آڈیو ٹیپ بھی سنائی۔ میجر جنرل بابر افتخار کے بقول ڈاکٹر اللہ نذر نے جعلی افغان پاسپورٹ پر بھارت کا سفر کیا تھا۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر 2014 میں ہونے والے حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے پی ایس حملے کے بعد جلال آباد میں بھارت کے قونصل خانے میں جشن منایا گیا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ نئی دہلی نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ پاکستان کی خاموشی، خطے کے امن اور مفاد میں نہیں۔ بھارتی منصوبہ بندی واضح ہو چکی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کا مقصد پاکستان کی امن کی کوششوں میں خلل ڈالنا ہے۔ نئی دہلی سی پیک منصوبہ کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی ایجنسیز میں سیل بنایا ہے۔ اب تک بھارت اس سیل کو 80 ارب روپے دے چکا ہے۔ سی پیک منصوبوں کی حفاظت کے لیے افواج پاکستان کے جوان تیار ہیں۔

بھارت کی جانب سے سرکاری طور پر پاکستان کے ان الزامات پر تاحال کوئی ردعمل نہیں آیا۔ لیکن افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی صورت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے الزامات، افغانستان میں تشدد کے واقعات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات کی اقوامِ متحدہ سے غیر جانب درانہ تحقیقات کرانے کی بھی پیش کش کر دی ہے۔

افغانستان نے پاکستانی حکام کے ان الزامات کی بھی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لیے افغانستان میں تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔

ایل او سی پر کشیدگی

پاکستان کی جانب سے یہ الزامات پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ کے تبادلے میں دونوں اطراف میں 13 افراد کی ہلاکتوں اور 30 کے زخمی ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایل او سی پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ تاہم پاکستان نے بھارت کو مؤثر جواب دیا ہے اور اسے بہت نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ایل او سی پر جھڑپوں کے نتیجے میں پاکستانی علاقے میں چار شہری ہلاک جب کہ پانچ فوجیوں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر بھارتی فوجی حکام نے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ اور سیز فائر کی خلاف ورزی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھیرایا ہے۔ بھارت نے اپنے علاقے میں چار فوجیوں اور چار عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے راجستھان میں سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دوسروں کو سمجھنے اور ان کو سمجھانے کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن اگر اس کو آزمانے کی کوشش کی گئی تو ملک سخت ردِ عمل دے گا۔

نریندر مودی نے مزید کہا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے فوجیوں کو ہماری سرحدوں کی حفاظت سے نہیں روک سکتی۔ بھارت نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے پاس چیلنج کرنے والوں کو ایک مناسب جواب دینے کی طاقت اور سیاسی حکمت عملی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اب جانتی ہے کہ بھارت اپنے مفادات کے ساتھ تھوڑا سا بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG