رسائی کے لنکس

logo-print

پلوامہ حملے پر پاکستانی وزیر کے اعتراف سے بھارت میں لوگ بے نقاب ہو گئے: مودی


فائل فوٹو

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پلوامہ حملے کے سلسلے میں پاکستان کے ایک وزیر کے اعتراف سے بھارت میں وہ لوگ بے نقاب ہو گئے جو جوانوں کی ہلاکت پر سوال اٹھا رہے تھے۔

ہفتے کو گجرات میں ایک تقریب سے خطاب میں نریندر مودی نے حزبِ اختلاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جوانوں کی ہلاکت پر سیاست کر رہے تھے۔

حزبِ اختلاف کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

البتہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارت کے وزیرِ اعظم کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ایک وزیر کا بیان ڈھٹائی کے ساتھ توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت پر پاکستان کے حوالے سے لاعلاج خبط حاوی ہے۔ اور یہ انتخابی حکمتِ عملی ہے کہ داخلی مسائل اور خارجہ ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے اور رائے عامہ کی حمایت حاصل کی جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فروری 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے کے بعد پاکستان مخالف مہم چلا کر بی جے پی کو پارلیمانی انتخابات میں بہت بڑی کامیابی ملی تھی۔ اس طرح اس حملے کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوا ہے۔ اس دن کے بعد سے بھارت کی حکومت پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد فراہم نہیں کر سکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی کابینہ کے رکن وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے پلوامہ حملے سے متعلق قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان کی باز گشت بھارت میں اب بھی سنائی دے رہی ہے۔

فواد چوہدری کے بیان کے بعد بھارت کے سیاسی رہنما دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان نے پلوامہ حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے حزبِ اختلاف پر حملے بھی تیز کر دیے ہیں۔

بھارت کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں فواد چوہدری کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ہم نے بھارت کو گھس کر مارا ہے۔ پلوامہ میں جو ہماری کامیابی ہے۔ وہ عمران خان کی قیادت میں اس قوم کی کامیابی ہے۔ اس کے حصے دار آپ سب بھی ہیں۔ اس کے حصے دار ہم سب بھی ہیں۔

وہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور سابق اسپیکر ایاز صادق کے ایک متنازع بیان کے سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے۔

جب قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جانب سے ٹوکا گیا تو فواد چوہدری نے کہا کہ پلوامہ کے واقعے کے بعد جس طرح ہم نے بھارت کو گھس کر مارا ہے۔ اور جس طرح بھارت میں گھس کر اس کی پٹائی کی ہے۔ وہ تو بھارت کا اپنا میڈیا اس پر شرمندہ ہے۔ ہندوستان کی سیاسی قیادت اس پر شرمندہ ہے۔

جمعرات کو دیا جانے والا یہ بیان اب بھی بھارتی حکومت کے حامی نیوز چینلز پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے بھارت کے نیوز چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔

بھارت کے نشریاتی ادارے 'این ڈی ٹی وی' سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول پاکستان بالکل دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا اور پلوامہ کی اصطلاح اس پورے واقعے کے لیے عام طور پر اب استعمال ہوتی ہے اور انہوں نے بھی اسی تناظر میں اس کا ذکر کیا تھا۔

انہوں نے نشریاتی ادارے 'انڈیا ٹوڈے' سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت کے لیے ہمارے اندر کوئی نفرت نہیں ہے۔ یہ بی جے پی ہے جو ووٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکاتی رہتی ہے۔

قبل ازیں بھارت کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ فواد چوہدری کے اعتراف سے سچائی واضح ہو گئی ہے۔ حکومت کے ناقدین چپ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بہار کے ضلع بھاگلپور میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے اعتراف کر لیا ہے کہ پلوامہ حملے میں اس کا ہاتھ تھا۔ اب تک وہ یہی کہتے رہے کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کانگریس رہنما ہماری نیت پر سوال اٹھا رہے تھے مگر اب وہ خاموش ہیں۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان نے پلوامہ دہشت حملے میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اب کانگریس اور دیگر جماعتوں کو، جو اس کے بارے میں سازشی نظریات کی بات کرتی تھیں، عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض دیگر رہنماؤں نے بھی کانگریس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینئر کانگریس رہنما ششی تھرور نے بی جے پی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا کانگریس کو فوجیوں کے تحفظ کے لیے نریندر مودی حکومت سے امید رکھنے کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کانگریس کو کیوں معافی مانگنی چاہیے۔ کیا فوجیوں کے تحفظ کے لیے، کسی قومی سانحہ پر سیاست کرنے کے لیے یا شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کے لیے۔

مرکزی وزیر اور سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھارت کے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے کہ 2019 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں حملے میں پاکستان کا ہاتھ تھا۔

جنرل(ریٹائرڈ) وی کے سنگھ کا کہنا تھا کہ میں پلوامہ حملے میں حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے ان (فواد چوہدری) کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم بالکل ابتدا سے ہی یہ بات کہتے رہے ہیں کہ تمام شواہد پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہماری حکومت پاکستان کے اس اعتراف سے پوری دنیا کو آگاہ کرے گی اور بتائے گی کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ بلیک لسٹ کرنے کی ضرورت ہے اور کسی کو بھی پاکستان کو مالی امداد نہیں دینی چاہیے۔

یاد رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے 'جیش محمد' پر الزام عائد کیا تھا اور بالاکوٹ میں اس کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بھارت کے میڈیا کا دعویٰ تھا کہ اس فضائی کارروائی میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔

جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس حملے میں کسی کی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

پاکستان نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پلوامہ حملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ فواد چوہدری کے بیان نے حکومت اور بی جے پی کو حزبِ اختلاف کو ہدف تنقید بنانے کے لیے ایک ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG