رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر سے پاکستان آنے والے طلبہ پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام


بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ میں سے 57 دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے اور پھر ان میں سے 30 لائن آف کنٹرول عبور کرکے وادیٴ کشمیر میں داخل ہوئے۔ (فائل فوٹو)

لاہور کے ایک طبی کالج میں ایم بی بی ایس کی طالبہ اسریٰ کرونا وائرس کی دوسری لہر کے درمیان سرینگر میں واقع گھر لوٹی تھیں۔ البتہ اب انہیں بھارت کے حکام واپس پاکستان جاکر اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے رہے۔

اسریٰ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ وہ بے حد افسردہ ہیں۔ وہ اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں فکر مند اور پریشان ہیں۔ یہ ایم بی بی ایس کا آخری برس ہے۔ وہ پہلے ہی داخلی امتحان میں شامل نہیں ہو پائی ہیں۔ کالج سے انہیں ای میل موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ تین ہفتوں میں حاضر نہیں ہوئیں تو ان کی ڈگری آئندہ برس تک منجمد کر دی جائے گی۔

ان کے مطابق پاکستان میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ میں سے آدھے سے زیادہ کا پہلے ہی ایک تعلیمی سال ضائع ہو چکا ہے۔

اسریٰ 18 اپریل کو گھر واپس آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بذریعہ جہاز شارجہ سے ہوتے ہوئی نئی دہلی پہنچی تھیں۔ کیوں کہ واہگہ بارڈر بند تھا اور دونوں ممالک کے درمیان ہوائی سفر بھی ممکن نہیں تھا۔

قبل ازیں جنوری 2021 میں پاکستان میں زیرِ تعلیم تقریباََ 300 کشمیری طلبہ واہگہ کے راستے گھر لوٹے تھے۔ ان میں سے لگ بھگ سو طلبہ مارچ کے وسط میں دوبارہ پاکستان جانے کے لیے واہگہ پہنچے تو انہیں سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے یکم جون 2021 کو بھارت کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے 349 شہریوں کو پاکستان کا سفر کرنے کی منظوری دی تھی۔ البتہ جب وہ واہگہ پہنچے تو انہیں یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ یہ فہرست وہاں تعینات حکام تک نہیں پہنچی۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُس روز 124 مسافروں کو، جن میں 81 پاکستانی شہری اور باقی بھارت کی دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے باشندے شامل تھے، بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی البتہ کشمیری طلبہ کو انتظار کرنے کے لیے کہا گیا اور شام کو یہ اعلان کیا گیا کہ انہیں سفر جاری رکھنے کے حوالے سے نئی دہلی سے منظوری نہیں ملی۔

اسریٰ نے بتایا کہ ان طلبہ سے یہ کہا گیا کہ وہ پہلے (بھارت کی) داخلہ اور ترقی انسانی وسائل کی وزارتوں کے این او سیز حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان سے بھی یہی کہا گیا ۔ اور بعد میں، وہ جب دبئی کے راستے پاکستان جانے کی کوشش کی تو انہیں امیگریشن حکام نے روک لیا اور وجہ وہی بتائی جو واہگہ سرحد پر تعینات حکام نے بیان کی تھی۔

پاکستان میں زیرِ تعلیم جموں و کشمیر کے ان طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کی وزاتِ داخلہ اور وزارتِ ترقیٴ انسانی وسائل کے علاوہ میڈیکل کونسل آف انڈیا اور نیشنل میڈیکل کمیشن کے حکام سے ملاقات کی البتہ ان سب نے کہہ دیا کہ وہ اس طرح کا اجازت نامہ جاری نہیں کر سکتے کیوں کہ اس سلسلے میں بھارت کی حکومت کی طرف سے کوئی حکم نامہ جاری ہوا ہے اور نہ کوئی رہنما اصول مقرر کیے گئے ہیں۔

اسریٰ نے کہا کہ انہوں نے بھارت کی وزارتِ خارجہ اور اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن سے بھی رابطہ قائم کیا۔ مگر کچھ نہیں ہو سکا ۔ وہ بس انتظار کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے منگل کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ میں سے 57 دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے اور پھر ان میں سے 30 لائن آف کنٹرول عبور کرکے وادیٴ کشمیر میں داخل ہوئے البتہ 17 سیکیورٹی فورسز سے مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

’طلبہ دہشت گردی میں ملوث‘

پولیس کے سربراہ نے سرحدی شہر راجوری میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ عرصے سے ایک نئی چیز دیکھنے میں آئی ہے۔ بہت سارے نوجوان 2017 اور 2018 میں درست سفری دستاویزات حاصل کرنے کے بعد تعلیم حاصل کرنے یا پھر سیاحت کی غرض سے پاکستان گئے۔ اس طرح کے 57 کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ لوگ سرحد پار گئے البتہ کسی نہ کسی طرح کی دہشت گردانہ سرگرمی میں شامل ہوئے جو واپس آئے ان میں سے 17 کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔

ان کے مطابق یہ لوگ گئے تو پاسپورٹ پر تھے لیکن واپس لائن آف کنٹرول عبور کر کے اور اسلحہ اٹھا کر اور تربیت حاصل کر کے آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 13 افراد ایسے ہیں جو اب بھی کشمیر میں متحرک ہیں۔ البتہ اُن کی شناخت ہو چکی ہے۔ یہ لوگ بھی پاکستان درست دستاویزات پر گئے تھے لیکن لوٹے ایل او سی سے اور اس وقت دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 17 کے قریب ایسے لوگ ہیں جو پاسپورٹ اور ویزے پر پاکستان گئے تھے البتہ واپس نہیں لوٹے۔ لیکن پولیس ان پر نظر رکھے ہوئے۔

پاکستان میں اس وقت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چار سو سو طلبہ مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سے اکثر طب کے طلبہ ہیں۔ ان میں سے کئی ایک جنوبی ایشیائی تعاون کی تنظیم سارک کی اسکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان کے مختلف کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے طلبہ کا انتخاب اوپن میرٹ پر مختلف بین الاقوامی تعلیمی پروگراموں یا پھر سیلف اسپانسرڈ اسکیموں کے تحت ہوا ہے۔

اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان بھی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے طلبہ کو مختلف اسکیموں کے تحت میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے مالی تعاون کرتی ہے جس پر بھارت کی حکومت کو اعتراض ہے۔

بھارت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں سے حاصل شدہ ڈگریاں تسلیم نہیں کرتا۔

بھارتی کشمیر میں صحافت اور صحافی مشکل میں
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:14 0:00

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم میڈیکل کی تعلیم میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے نشستیں مخصوص ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں مجموعی طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دو درجن سے زائد طلبہ کو ہر سال داخلہ دیا جاتا تھا۔

مئی 2019 میں بھارتی حکام نے کشمیری طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر نہ جانے کی تجویز دی تھی اور یہ کہا تھا کہ بھارت کی حکومت وہاں پڑھائے جانے والے کورسز کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں سے ڈگری کے حصول پر نقصان

بھارت کے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن یا یو جی سی نے واضح کیا تھا کہ پاکستانی کشمیر بھارت کا ایک لازمی حصہ ہے جس پر پاکستان نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں کے تعلیمی اداروں کو نہ تو بھارت کی حکومت نے قائم کیا ہے اور نہ ہی بھارت کے متعلقہ ادارے، جن میں یو جی سی، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن اور میڈیکل کونسل آف انڈیا شامل ہیں، ان کو تسلیم کرتے ہیں-

آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجو کیشن نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو خطوط کے ذریعے تاکید کی تھی کہ وہ ریاست کے طلبہ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے سے باز رکھیں اور انہیں اُن منفی نتائج اور مضمرات کے بارے میں خبردار کریں جن کا انہیں ان اداروں میں داخلہ لینے کی صورت میں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کونسل نے یہ ہدایات کی اور بھارت کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے بھارتی کشمیر سے تعلق رکھنے والے 25 ایسے طلبہ کے کیسز پر غور کرنے کے بعد جاری کی تھیں جو اُس وقت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں زیرِ تعلیم تھے۔

ان طلبہ نے اس سے پہلے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے توثیق کے لیے رابطہ قائم کیا تھا۔ تاہم بعد میں ان طلبہ کو بھارت کے حکام کی طرف سے کیے جانے والے اعتراض کی روشنی میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں منتقل کرنے کے احکامات صادر کیے گئے تھے تاکہ مستقبل میں انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جون 2020 میں بھارت کے حکام نے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے نئی دہلی کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور لدا خ کے طلبہ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت، بلتستان کے طبی اور دوسرے پیشہ ورانہ اور غیر پیشہ ورانہ اداروں میں داخلہ لینے سے منع کیا اور انہیں خبردار کیا کہ ان اداروں سے حاصل کی گئی ڈگریاں اور سندیں بھارت میں تسلیم نہیں کی جائیں گی۔

’اسناد بھارت میں تسلیم نہیں کی جاتیں‘

آل انڈین کونسل فار دی ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) نے، جو بھارت میں تیکنیکی تعلیم کو ریگولیٹ کرتی ہے، ایک پبلک ایڈوائزری میں کہا تھا کہ طلبہ کو مشورہ دیا جاتا ہے اور اس کےساتھ ہی انہیں متنبہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ نام نہاد آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان، جو اس وقت پاکستان کے ناجائز قبضے میں ہیں، کے کسی کالج، یونیورسٹی یا تیکنیکی ادارے میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی، آرکیٹیکچر، ٹاؤن پلاننگ، فارمیسی، ہوٹل مینیجمنٹ اور کیٹرنگ ٹیکنالوجی، اپلائیڈ آرٹس، کرافٹس و ڈیزائن، کمپیوٹر اپلیکیشنز، ٹریول و ٹوریزم یا دوسرے کورسز میں داخلہ نہ لیں کیوں کہ انہیں نی تو بھارت نے قائم کیا ہے اور نہ ان سے حاصل کی گئی سندیں بھارت میں تسلیم کی جاتی ہیں۔

پاکستان میں زیرِ تعلیم ایک کشمیری طالبہ کے والد غلام حسن راتھر نے کرونا وائرس کی وجہ سے گھر لوٹنے والی بیٹی کو واپس پاکستان جا کر تعلیم جاری رکھنے سے روکنے پر ردِ عمل دیتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ سراسر نا انصافی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات یا سیاسی حالات کیا ہیں، وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ بچے کیوں پریشانی اٹھائیں۔ وہ تو مختلف ممالک تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں۔ آزاد کشمیر کا معاملہ الگ سہی لیکن ایسا کوئی قانون، حکم نامہ یا نوٹی فکیشن موجود نہیں جو یہ کہتا ہو کہ وہ تعلیم کی غرض سے پاکستان نہیں جا سکتے یا وہاں کے کالجوں کی ڈگریاں درست نہیں ہیں۔ پہلے اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

انہوں نےمزید کہا کہ ان کی بیٹی کو لاہور کے ایک طبی کالج میں میرٹ پر داخلہ ملا تھا اور انہوں نے سیلف اسپانسرڈ فیس اور دیگر اخراجات کے لیے 28 لاکھ روپے بذریعہ بینک ادا کیے تھے۔ ان کی بیٹی کرونا وائرس کی وجہ سے کالج اور ہاسٹل بند ہونے کے بعد گھر لوٹی تھیں۔ البتہ اب اُسے واپس پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

ان کے مطابق وہ بے حد پریشان ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تنازع ہے تو ان کی بیٹی اس کے لیے سزا کیوں بھگتے؟

تعلیمی ماہرین کو تشویش

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض ماہرینِ تعلیم اور سیاسی جماعتوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے طلبہ کو تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان جانے سے روکنا تعلیم کے شعبے کو سیاست سے جوڑنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی تلخیوں اور تعلقات کو، جو سیاسی اور تاریخی وجوہ کی بنا پر ہمیشہ ہی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تعلیم کے شعبے پر ہر گز اثر انداز نہ ہونے دیا جائے۔

پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے سربراہ جی این وار نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ اگر کشمیر طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کہیں جانے سے روکا جاتا ہے تو یہ تعلیم کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کو عالم گیر بنانے کے معاملے میں سیاست کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG