رسائی کے لنکس

کیا جموں میں فضائی اڈے پر ڈرون حملہ بھارت کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج ہے؟

مبصرین کے مطابق جموں ایئر فورس اسٹیشن پر ہونے والے ڈرون حملے میں گو کہ کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی، البتہ اسے بھارت میں دہشت گردی کی ایک نئی شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے حکومتی اور دفاعی حلقوں میں صورتِ حال پر اظہارِ تشویش کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
مبصرین کے مطابق جموں ایئر فورس اسٹیشن پر ہونے والے ڈرون حملے میں گو کہ کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی، البتہ اسے بھارت میں دہشت گردی کی ایک نئی شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے حکومتی اور دفاعی حلقوں میں صورتِ حال پر اظہارِ تشویش کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کی ایئر فورس کے ​جموں اسٹیشن پر 27 جون کو ڈرون حملے اور پھر اس کے بعد بھی علاقے میں ڈرون طیارے فضا میں دیکھے جانے کے متعدد واقعات کے دفاعی، سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ڈرون حملے بھارت کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں؟

رپورٹس کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی پولیس اور فوج کے حکام نے الزام لگایا ہے کہ حالیہ دنوں میں سرحد پار سے ڈرون طیاروں کی کم از کم 14 پروازوں کی نشان دہی ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون طیارے جموں، راجوری، سامبا اور کٹھوعہ اضلاع میں دیکھے گئے ہیں۔ چھ پروازیں سامبا سیکٹر میں، تین سے چار ہیرا نگر سیکٹر میں اور دو دو نوشیرہ، راجوری اور ارنیا سیکٹرز میں دیکھی گئی ہیں۔ یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ طیارے دھماکہ خیز مواد سے لیس تھے۔

ان واقعات کے بعد جموں میں تمام دفاعی ٹھکانوں پر خصوصی سیکیورٹی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں جب کہ سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سرحدی ضلع راجوری میں ڈرون اڑانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، جب کہ جموں ایئر فورس اسٹیشن پر اینٹی ڈرون سسٹم، ریڈیو فریکوئنسی ڈیٹکٹر اور جیمرز بھی نصب کیے گئے ہیں۔

کیا یہ دہشت گردی کی نئی شکل ہے؟

مبصرین کے مطابق جموں ایئر فورس اسٹیشن پر ہونے والے ڈرون حملے میں گو کہ کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی، البتہ اسے بھارت میں دہشت گردی کی ایک نئی شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے حکومتی اور دفاعی حلقوں میں صورتِ حال پر اظہارِ تشویش کیا گیا ہے۔

سرینگر میں پندرہویں کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے بھارت کے نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ ریاستی حمایت اور لشکر طیبہ کی شمولیت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج ایسے خطروں کو روکنے اور قومی سلامتی کو لاحق خطرے سے نمٹنے کے امکانات تلاش کریں گی۔

’پاکستان کے کردار کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا‘

قبل ازیں بھارت کے نائب وزیرِ داخلہ جی کشن ریڈی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جموں ایئر فورس اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں پاکستان کے کردار کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کے خلاف سنگین الزام عائد کر رہا ہے۔

بھارتی کشمیر میں فورسز کی مدد کے لیے مقامی افراد کی تربیت

بھارتی کشمیر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے مقامی افراد کو تربیت دی جارہی ہے۔
1/13 بھارتی کشمیر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے مقامی افراد کو تربیت دی جارہی ہے۔
مقامی افراد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں پہاڑیوں پر مشتمل درجنوں گاؤں میں قانون نافذ کرنے والے افسران کی مدد کے لیے 'اسپیشل پولیس افسر' بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔
2/13 مقامی افراد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں پہاڑیوں پر مشتمل درجنوں گاؤں میں قانون نافذ کرنے والے افسران کی مدد کے لیے 'اسپیشل پولیس افسر' بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بھارت  زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے اور  بغاوت روکنے کی کارروائیوں کے لیے مقامی افراد کو تربیت دی جا رہی ہے۔
3/13 بھارت  زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے اور  بغاوت روکنے کی کارروائیوں کے لیے مقامی افراد کو تربیت دی جا رہی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے تیار کیے گئے یہ مقامی لوگ 'اسپیشل پولیس آفیسرز' کہلائیں گے۔
4/13 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے تیار کیے گئے یہ مقامی لوگ 'اسپیشل پولیس آفیسرز' کہلائیں گے۔
<p dir="RTL">کٹھوعہ کے پولیس چیف رمیش کوٹ وال کا کہنا ہے کہ &#39;&#39;ہم نے یہ بیچ خاص طور پر بارڈر مینجمنٹ کے لیے بھرتی کیا ہے۔&#39;&#39;</p>
5/13

کٹھوعہ کے پولیس چیف رمیش کوٹ وال کا کہنا ہے کہ ''ہم نے یہ بیچ خاص طور پر بارڈر مینجمنٹ کے لیے بھرتی کیا ہے۔''

یہ افراد اپنی تربیت کے آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد انہیں کٹھوعہ کے دور دراز علاقوں میں پولیس کی&nbsp; بارڈر پوسٹس پر بھیجا جائے گا۔
6/13 یہ افراد اپنی تربیت کے آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد انہیں کٹھوعہ کے دور دراز علاقوں میں پولیس کی  بارڈر پوسٹس پر بھیجا جائے گا۔
پولیس چیف رمیش کوٹ وال کے مطابق ہم ان لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ انہیں سرحد پار شیلنگ جیسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مزید مہارت دی جائے۔
7/13 پولیس چیف رمیش کوٹ وال کے مطابق ہم ان لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ انہیں سرحد پار شیلنگ جیسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مزید مہارت دی جائے۔
تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ افراد پولیس کے نچلے عہدوں پر کام کریں گے۔&nbsp;
8/13 تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ افراد پولیس کے نچلے عہدوں پر کام کریں گے۔ 
<p dir="RTL">&nbsp;کشمیر بھارت اور&nbsp; پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے۔</p>

<figure>&nbsp;</figure>
9/13

 کشمیر بھارت اور  پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں میں تقسیم ہے۔

 
<p dir="RTL">کشمیر کے دونوں حصوں کو الگ کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان دونوں کی افواج موجود ہیں۔</p>

<figure>&nbsp;</figure>
10/13

کشمیر کے دونوں حصوں کو الگ کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان دونوں کی افواج موجود ہیں۔

 
کشمیر کے سرحدی حصے پر خاردار تاریں، نگرانی کے لیے ٹاورز اور بنکرز موجود ہیں جب کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار فائرنگ کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔
11/13 کشمیر کے سرحدی حصے پر خاردار تاریں، نگرانی کے لیے ٹاورز اور بنکرز موجود ہیں جب کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار فائرنگ کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔
فروری میں پاکستان اور بھارت نے 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا اعادہ کیا تھا۔
12/13 فروری میں پاکستان اور بھارت نے 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا اعادہ کیا تھا۔
فروری 2021 سے دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر خاموشی ہے۔
13/13 فروری 2021 سے دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر خاموشی ہے۔
Previous slide
Next slide

یاد رہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

وزیرِ اعظم مودی کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس

جموں میں ڈرون حملے کے دو روز بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس کیا اور اس حملے کے تناظر میں دفاعی سیکٹر کو مستقبل میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق مودی حکومت مستقبل میں ملک کو درپیش ابھرتے ہوئے نئے سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے جلد ہی ایک پالیسی کا اعلان کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ اجلاس میں اس سلسلے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بارے میں جلد از جلد پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مختلف وزارتیں اور محکمے اس نئے غیر روایتی خطرے سے نمٹنے کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج ممکنہ پالیسی کی تیاری اور اس کے نفاذ کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

ڈرون حملے کے ایک روز بعد بھارت نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اس معاملے کو اٹھایا اور کہا کہ دفاعی اور تجارتی ٹھکانوں کے خلاف ہتھیاروں سے لیس ڈرون حملے پر عالمی برادری کو سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ میں اسپیشل سیکریٹری (داخلی سلامتی) وی ایس کومدی نے کہا کہ آج دہشت گردی کی تشہیر، انتہاپسندی اور دہشت گرد گروپوں میں بھرتی کی خاطر اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی جیسے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال، دہشت گردی کی مالی اعانت کے لیے ادائیگی کے نئے طریقوں اور کراوڈ فنڈنگ پلیٹ فارم کا غلط استعمال اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال سنگین خطرے کی شکل میں ابھرا ہے۔

کانگریس کا پالیسی سازی پر زور

اسی درمیان بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرون حملے جیسے نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک معتبر پالیسی اور اسٹریٹجک اقدامات کا اعلان کرے۔

کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مسلح ڈرون حملے سیکیورٹی فورسز اور حکومتی اداروں کے لیے اصل خطرہ ہیں۔ قوانین میں ترمیم اور سرکلر جاری کرنے کے بجائے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے درپیش اس نئے چیلنج کا مقابلہ کرنا وقت کی ضرورت ہے

پہلی بار ڈرون کو ہتھیار بنایا گیا

سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شنکر پرساد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس علاقے میں ڈرونز پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انہیں حملہ کرنے والے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال بھی پنجاب میں ڈرونز کے ذریعے ہتھیار گرائے گئے تھے لیکن ایسے ڈرونز اکثر پکڑے جاتے تھے۔

ان کے مطابق جموں میں جو ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں وہ چھوٹے سائز کے ہیں۔ ان سے ایک سے دو کلو گرام تک دھماکہ خیز مادہ استعمال کیا گیا اور وہ انتہائی نچلی پرواز پر تھے۔

ان کے بقول یہ پہلا موقع ہے جب دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ڈرونز کا استعمال ہوا ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر میں یہ دہشت گردی کا ایک نیا ابھار ہے۔

کشمیر میں پھنسی سابق عسکریت پسندوں کی پاکستانی بیویاں
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:07 0:00

انہوں نے کہا کہ اہمیت اس بات کی ہے کہ حکومت اس کا جواب کیسے دیتی ہے۔ پہلے بھی اس نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کا جواب دیا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے کہ وہ کیا کارروائی کرتی ہے۔

اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ضرورت

ان کے مطابق ڈرونز کو ناکام بنانے کے لیے اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ وہ ریڈیو ویو پر ٹریول کرتے ہیں، وہ ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس فریکوئنسی کو پکڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں جس سے ڈرون بھیجا گیا ہے تو ہم اسے ناکام بنا سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ بھارت کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہے یا نہیں ہے۔

ان کے مطابق جس طرح بہت سی وی آئی پی کاروں میں ایریل لگے ہوتے ہیں جو آئی ای ڈی کے کسی بھی خطرے کو ناکام بنا دیتے ہیں اور وی آئی پی قافلہ وہاں سے نکل جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کہیں بڑا عوامی اجتماع ہو رہا ہو اور وہاں ڈرون حملے کا خطرہ ہو تو وہاں اگر چھوٹے سے علاقے میں ایسے جیمر یا انٹرسیپٹر نصب کر دیں جو فریکوئنسی کو ناکام بنا سکیں تو ڈرون حملہ بھی ناکام ہو جائے گا۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جموں و کشمیر جیسے بڑے علاقے کے لیے ہائی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہو گی۔ اگر یہ ٹیکنالوجی بھارت میں نہیں ہے تو امریکہ یا اسرائیل سے جہاں سے بھی دستیاب ہو سکے اسے حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

شنکر پرساد مزید کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت کام کرنا پڑے گا کیوں کہ یہ ایک نیا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں تو ’ڈرون دہشت گردی‘ کا نیا خطرہ ابھرا ہی ہے یورپ وغیرہ میں بھی جہاں دہشت گردانہ وارداتیں ہو رہی ہیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ان کے بقول آج ڈرون کھلونے کی طرح بک رہے ہیں۔ یہ دیکھنا حکومت کا کام ہے کہ دیگر شورش پسند تنظیمیں اس کا استعمال نہ کر سکیں۔ اس لیے حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ ڈرون کا فروخت لائسنس کے ذریعے ہو یا کسی اور ذریعے سے۔

لیکن وہ اس اندیشے کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ لائسنس وغیرہ سے بھی بات بننے والی نہیں ہے۔ کیوں کہ دہشت گرد گروہوں کو لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو کہیں سے بھی ڈرون حاصل کر لیں گے اور اپنے مقاصد میں استعمال کریں گے۔

وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بھارت کی سلامتی کے لیے ڈرون ایک نیا خطرہ بن کر ابھرا ہے اور حکومت کو جلد از جلد اس سلسلے میں کوئی مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارت کے پاس اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی نہیں ہے

ایک اور دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی بھی اسے ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے خیال میں بھارت میں اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی ہے ہی نہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے پاس کوئی ڈرون پالیسی بھی نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو پہلے ڈرون کے اس خطرے کے بارے میں سمجھنا ہوگا اور پھر اسی کی مناسبت سے پالیسی وضع کرنا ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس پر ابھی تک بھارت نے غور ہی نہیں کیا۔

کشمیر کی کہانی، تصویروں کی زبانی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں محکمہ داخلہ نے امرناتھ کی تاترا پر گئے افراد کو دورہ مختصر کرکے واپسی کی ہدایات جاری کی ہیں۔<br />
<br />
&nbsp;
1/11 بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں محکمہ داخلہ نے امرناتھ کی تاترا پر گئے افراد کو دورہ مختصر کرکے واپسی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

 
وادی میں موجود ایک گھر کی کھڑی سے پولیس اہلکار کشیدہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
2/11 وادی میں موجود ایک گھر کی کھڑی سے پولیس اہلکار کشیدہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
 
 
سری نگر کی ڈل جھیل کے کنارے سیاحوں کے لئے استعمال ہونے والی خصوصی کشتی جسے شکارا کہا جاتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو بھی وادی سے نکل جانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔<br />
<br />
&nbsp;
3/11 سری نگر کی ڈل جھیل کے کنارے سیاحوں کے لئے استعمال ہونے والی خصوصی کشتی جسے شکارا کہا جاتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو بھی وادی سے نکل جانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

 
&nbsp;کشمیر کی موجودہ صورتحال میں سیاحوں کو سری نگر کی ڈل جھیل جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ان سیاحوں کی سیر کے لئے استعمال ہونے والی خصوصی کشتیاں &#39;شکارے&#39; جھیل میں کھڑی ہیں جبکہ ایک شخص ان کے قریب سے گزر کررہا ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
4/11  کشمیر کی موجودہ صورتحال میں سیاحوں کو سری نگر کی ڈل جھیل جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ان سیاحوں کی سیر کے لئے استعمال ہونے والی خصوصی کشتیاں 'شکارے' جھیل میں کھڑی ہیں جبکہ ایک شخص ان کے قریب سے گزر کررہا ہے۔
 
 
کشمیر کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر نئی دہلی میں واقع بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر سیکورٹی بڑھا گی گئی ہے۔ نیم فوجی اور پولیس اہلکار رہائش گاہ کے دروازے پر الرٹ کھڑے ہیں
5/11 کشمیر کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر نئی دہلی میں واقع بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر سیکورٹی بڑھا گی گئی ہے۔ نیم فوجی اور پولیس اہلکار رہائش گاہ کے دروازے پر الرٹ کھڑے ہیں
بھارتی فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلون نے سری نگر کے دورے کے موقع پر پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
6/11 بھارتی فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلون نے سری نگر کے دورے کے موقع پر پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔
 
 
ایک بھارتی فوجی سری نگر میں ہونے والی نیوز کانفرنس کے دوران رائفل لئے کھڑا ہے۔<br />
<br />
&nbsp;
7/11 ایک بھارتی فوجی سری نگر میں ہونے والی نیوز کانفرنس کے دوران رائفل لئے کھڑا ہے۔

 
پہلگام کے پہاڑی علاقے میں ڈیوٹی پر تعینات بھارتی سیکورٹی اہلکار<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
8/11 پہلگام کے پہاڑی علاقے میں ڈیوٹی پر تعینات بھارتی سیکورٹی اہلکار
 
 
کشمیر کی وادی نیلم میں لائن آؤٹ کنٹرول کے قریب واقع نوسحری کے مقام پر موجود کلسٹر بم کا شیل<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
9/11 کشمیر کی وادی نیلم میں لائن آؤٹ کنٹرول کے قریب واقع نوسحری کے مقام پر موجود کلسٹر بم کا شیل
 
 
سری نگر میں پیر کے روز مختلف شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں
<div>&nbsp;</div>
10/11 سری نگر میں پیر کے روز مختلف شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں
 
بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ بھارتی داراحکومت نئی دہلی میں راجیہ سبھا کی آمد پر صحافیوں سے مخاطب ہیں۔ راجیہ سبھا میں پیر کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بحث ہوئی جس کے دوران آئین کے آرٹیکل&nbsp; 35کو منسوخ کردیا گیا اور کشمیر کو حاصل ریاست کا درجہ بھی ختم کردیا گیا۔&nbsp;<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
11/11 بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ بھارتی داراحکومت نئی دہلی میں راجیہ سبھا کی آمد پر صحافیوں سے مخاطب ہیں۔ راجیہ سبھا میں پیر کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بحث ہوئی جس کے دوران آئین کے آرٹیکل  35کو منسوخ کردیا گیا اور کشمیر کو حاصل ریاست کا درجہ بھی ختم کردیا گیا۔ 
 
 
Previous slide
Next slide

انہوں نے کہا کہ جموں کا واقعہ ایک چھوٹا واقعہ ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس اینٹی ڈرون نظام ہے وہ ایسے واقعات کو نظر انداز کر دے گا۔ لیکن یہ واقعہ بھارت کے لیے اس لیے بڑا ہے کہ اس کے پاس ایسے حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

ایک اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) اشونی سواچ بھی اسے ایک نیا چیلنج قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈرون نچلی پرواز کرتا ہے اس لیے وہ رڈار کی گرفت میں نہیں آتا۔ وہ سستا بھی ہوتا ہے اور اسے سول استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ نہ صرف بھارت کی سیکیورٹی فورسز کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔ ان کے مطابق لشکر طیبہ وغیرہ ڈرون کا استعمال گولہ بارود اور رسد وغیرہ پہنچانے کے لیے کیا کرتی تھی۔ لیکن پہلی بار ا س کا استعمال ہتھیار کے طور پر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک نے کسی حد تک اینٹی ڈرون حکمت عملی بنائی ہے تو وہ اسرائیل ہے۔ بھارت کو اپنی سیکیورٹی تیاری پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد تمام ایئرپورٹس کی سیکیورٹی پر نظرِ ثانی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود جموں ایئر فورس اسٹیشن پر حملہ ہو گیا۔ لہٰذا بھارت کو آنے والے دنوں میں اینٹی ڈرون اسٹریٹجی بنانا پڑے گی۔

ڈی آر ڈی او ٹیکنالوجی

دفاعی تحقیق و ترقی کے ادارے (ڈی آر ڈی او) کے سربراہ جی ستیش ریڈی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے نے جو کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی تیار کی ہے اس کی مدد سے مسلح افواج چھوٹے ڈرونز کا بہت جلد پتا لگا سکتی ہیں۔ ان کو پکڑ سکتی ہیں اور انہیں تباہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ڈی آر ڈی او نے جنوری 2020 میں ہنڈن ایئرفورس اسٹیشن پر اور اگست 2020 اور جنوری 2021 میں نیشنل سیکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کیمپس مانیسر میں مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کے سامنے اپنی اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا ہے۔

بھارت کی ڈرون پالیسی

مبصرین کے مطابق بھارت میں ڈرون پالیسی پہلے سے موجود ہے۔ حکومت نے رواں سال مارچ میں اس سلسلے میں پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ممبئی، دہلی، چنئی، کولکاتہ، بنگلور اور حیدرآباد کے انٹرنیشنل ایئر پورٹس کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں اور کسی بھی سول، پرائیویٹ یا ڈیفنس ایئر پورٹ کے تین کلومیٹر کے دائرے میں ڈرون آپریٹ نہیں کیا جا سکتا۔

کشمیر: جھڑپوں میں شہریوں کی املاک کے نقصان کا ذمہ دار کون؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:44 0:00

ضوابط کے مطابق لائن آف کنٹرول، لائن آف ایکچوول کنٹرول اور ایکچوول گراؤنڈ پوزیشن لائن سمیت بین الاقوامی سرحدوں سے 25 کلومیٹر دور تک ڈرون نہیں اڑائے جا سکتے۔

اس کے علاوہ دارالحکومت نئی دہلی کے وجے چوک یا انڈیا گیٹ اور اس کے گرد و نواح میں جہاں وزارتِ داخلہ واقع ہے اور سینٹرل سکریٹریٹ کے آس پاس ڈرون کا اڑانا ممنوع ہے۔ اگر کوئی اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا تو اس پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

This item is part of
XS
SM
MD
LG