رسائی کے لنکس

logo-print

آئین میں فلاحی ریاست کا تصور محض لکھنے کی حد تک ہے: فرحت اللہ بابر


فرحت اللہ بابر (فائل)

’پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز‘ کے زیر اہتمام مکالمہ پاکستان 2019 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ کیا پاکستان سیکورٹی ریاست ہے؟ سیکورٹی ریاست میں عوامی مفاد کا تعین قومی سلامتی کے ادارے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میمو گیٹ اسیکنڈل‘ میں اس وقت کے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سپریم کمانڈر کے خلاف سپریم کورٹ میں گئے۔

اسلام آباد میں ’پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز‘ کے زیر اہتمام مکالمہ 2019 کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’’آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت پاکستان کو فلاحی ریاست ہونا چاہیے تھا۔ لیکن، آرٹیکل 38 صرف لکھنے کی حد تک ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈان لیکس‘ پر ’’قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تھا۔ لیکن جہلم کے فوجی دربار کی خبر ’ٹائمز آف لندن‘ میں شائع ہوئی اس سے ریاست کو خطرہ نہیں ہوا؛ ’میمو گیٹ‘ میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سپریم کمانڈر کیخلاف سپریم کورٹ جاتے ہیں‘‘۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ’’پاکستان میں ٹیسٹ ٹیوب سیاسی جماعتیں بنتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی میٹنگز کی گفتگو ریکارڈ کر لی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ملک سے باہر ملاقاتیں کرنی پڑتی ہیں‘‘۔

افراسیاب خٹک نے کہا کہ ’’اگر آپ سیاسی جماعتوں کا بھرکس نکال دیں گے تو قوم کیسے آگے بڑھے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب حشر یہ ہے کہ پارٹیوں کو اپنی بقا کی جنگ کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے خلاف بات کرنے کو ثواب سمجھا جاتا ہے‘‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ ’’پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے۔ بد قسمتی سے ملک کے وزیر اعظم پارلیمنٹ میں نہیں آتے۔ سیاستدان عدالت میں جا کر اپنے مسئلے حل کرتے ہیں۔ اس وجہ سے جو جج جوڈیشل ایکٹیویزم پر نہ بھی یقین رکھے وہ بھی اس طرف چل پڑتا ہے۔‘‘

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے ’ڈائیلاگ پاکستان 2019 سیمینار‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کا ایک آئین لکھا ہوا ہے۔لیکن، ایک آئین ایسا ہے جو لکھا ہوا نہیں ہے۔ عمل اس پر ہوتا ہے جو لکھا ہوا نہیں ہوتا۔ وہ آئین زیادہ طاقتور ہے جو نہ لکھا ہوا ہو۔ پارلیمنٹ کی بالادستی پر بات کرنا خود سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے پر نہیں ہے‘‘۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ کرپشن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری کو آزادی سے رہنے اور سیاسی عمل میں شامل ہونے کا حق دے رہی ہے یا نہیں۔

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اس تقریب میں ریاست کو درپیش مختلف چینلنجوں پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG