رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: تحریک انصاف میں اختلافات، وزیر اعلیٰ تبدیل کرنے کی کوشش


محمود خان 2018 میں انتخابات کے بعد صوبے میں دوسری بار پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد سے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہیں — فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا کی حکومت دو گروہوں میں تقسیم نظر آ رہی ہے۔

کابینہ میں شامل سینئر وزیر محمد عاطف خان نے وزیر اعلیٰ محمود خان پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگائے ہیں، جس کے بعد ان کے حامی اور مخالف گروہوں کی کوشش ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے زیادہ سے زیادہ ارکان اسمبلی پیش کرکے ان کی حمایت حاصل کی جائے۔

وزیر اعلیٰ محمود خان کے خلاف بننے والے گروہ میں شامل ایک رکن صوبائی اسمبلی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ناراض اراکین اسمبلی کے صلاح و مشوروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پشاور میں ایک اہم اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بات چیت ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تمام مسائل کو وزیر اعظم کے نوٹس میں لایا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع ابلاغ میں ایک روز قبل حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کے بارے میں خبریں سامنے آئی تھیں کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر کھیل و ثقافت کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں نے کابینہ اجلاس میں جھڑپ کی خبریں بھی شائع کی تھیں۔ تاہم، کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات شوکت علی یوسف زئی نے اس کی تردید کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں۔

شوکت علی یوسف زئی کا کہنا تھا کہ جس کسی نے گروپ بنایا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف چھوڑ دے۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ میڈیا افواہیں پھیلا رہا ہے۔ انتخابات کے بعد ہر ایک نے وزیر اعلیٰ بننے کی کوشش کی مگر اس کا مطلب ہرگز اختلافات نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران جماعت میں کسی قسم کی گروہ بندی نہیں ہے۔

شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ اگر عاطف خان ناراض ہے اور وہ وزیر اعظم عمران خان سے بات کرنا چاہتے ہیں، تو ضرور کریں۔ تمام امور پر عمران خان ہی کا فیصلہ حرف آخر ہوتا ہے۔

صوبائی وزیر عاطف خان نے صوبے میں مبینہ بدعنوانی کے واقعات وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس میں لانے کی دھمکی دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، پانچ وزرا سمیت 25 اراکین صوبائی اسمبلی ایوان میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلے میں حکمران جماعت کے دیگر اراکین سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

حزب اختلاف میں شامل ایک اہم رہنما نے حکمران جماعت میں اختلافات اور جمعرات ہی کے روز کابینہ کے اجلاس میں جھڑپ کا دعویٰ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح عام لوگ حکومت سے نالاں ہیں، اسی قسم کی صورت حال ایوان میں بھی ہے۔

ان کے بقول، حکمران جماعت کے لگ بھگ 40 اراکین نے وزیر اعلیٰ محمود خان کے خلاف ایک بلاک بنایا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یوں دکھائی دیتا ہے کہ بغاوت یا مخالفت کرنے والوں کو کسی کی حمایت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG