رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت اپوزیشن مفاہمت کا آغاز، اتحادی ناراض


فائل فوٹو

پاکستان کی پارلیمان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مخالفت کے بعد اب مفاہمت کا رویہ دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اتحادی جماعتیں حکومت سے نالاں دکھائی دے رہی ہیں جس کا اظہار برملا کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کا مظاہرہ گزشتہ بدھ کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری سے ہوا جب چند منٹوں میں تین ترمیمی بل منظور کر لیے گئے۔ ماضی کی طرح قومی اسمبلی میں کوئی شور شرابا بھی نہیں دیکھا گیا۔

حکومتی وزرا اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے حالیہ بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اتفاق رائے صرف آرمی ایکٹ کی منظوری کے لیے نہیں ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار اپوزیشن رہنماؤں کی قید سے رہائی بھی اسی مفاہمتی عمل کا حصہ ہے، جس کے باعث حکومت و حزبِ اختلاف کے رہنما محاذ آرائی اور سخت بیانات سے اجتناب برت رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت و اپوزیشن جماعتوں نے اچانک مفاہمتی رویّہ کیوں اپنا لیا ہے اور اتحادی جماعتوں کی ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟

تجزیہ نگار مہتاب اکبر راشدی کہتی ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل تو ہے۔ لیکن جمہوری روایات ابھی ناپید ہیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کا تذکرہ تو کرتی ہیں۔ لیکن ابھی تک ذاتی اور مفادات کی سیاست سے باہر نہیں آسکیں۔

مہتاب راشدی کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ مفاہمانہ رویّے طویل وقت تک قائم نہیں رہیں گے۔

خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ اور کشیدگی کی فضا کے باعث موجودہ پارلیمنٹ میں کئی ماہ سے قانون سازی کا عمل متاثر ہے۔ الزامات اورجوابی الزامات نے ایوان کے ماحول کو بھی مکدر رکھا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد گزشتہ پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ بعض اوقات بات ہاتھا پائی تک بھی پہنچتی رہی ہے۔

مفاہمانہ طرزِ عمل کے نتیجے میں حکومت نے بھی نیب آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجاویز شامل کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کے معاملے پر بھی دونوں جانب سے ڈیڈ لاک دور ہو گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس حوالے سے نئے نام سامنے لانے پر اتفاق ہوا ہے۔

سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی سربراہ مشاہداللہ خان کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں آغاز سے ہی مفاہمانہ طرز عمل کے تحت چلنا چاہتی تھیں۔ لیکن حکومتی وزرا اخلاقیات اور پارلیمانی روایات سے نابلد تھے۔

سینیٹر مشاہداللہ خان (فائل فوٹو)
سینیٹر مشاہداللہ خان (فائل فوٹو)

مشاہد اللہ خان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ اور نواز شریف کے بیرونِ ملک جانے سے حکومت کمزور ہوئی ہے اور اب اتحادی بھی فاصلہ اختیار کرنے لگے ہیں۔ جس کے باعث حکومت کے رویے میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

حکومتی رابطہ کمیٹی کتنی کارگر ہو گی؟

ایک طرف اپوزیشن، حکومت کے ساتھ تعاون کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے تو وہیں حکومت کی اہم اتحادی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، مسلم لیگ (ق) اور گرینڈ ڈیمو کریٹ الائنس (جی ڈی اے) کے ساتھ سردار اختر مینگل نے بھی حکومت کے ساتھ چلنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے علیحدگی کا اعلان کیا تو مسلم لیگ (ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ بھی منگل کو وفاقی کابینہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔

اتحادیوں کی جانب سے ناراضگی کے اظہار کے بعد حکومت کی سیاسی رابطہ کمیٹی متحرک ہو گئی ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ملاقاتوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے ایم کیو ایم کے تحفظات سنے تو گورنر سندھ عمران اسماعیل نے جے ڈی اے کے رہنماؤں سے ملاقات میں اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔

ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی (فائل فوٹو)
ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی (فائل فوٹو)

گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کہتے ہیں کہ اتحادی جماعتیں تحریکِ انصاف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں۔

حکومتی جماعت کے رہنما جہانگیر ترین اور پرویز خٹک نے بدھ کو مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ ان کے اتحادیوں کے تحفظات اپنی جگہ، لیکن کو ئی حکومت سے علیحدگی اختیار نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جانے کی باتیں حقائق سے بہت دور ہیں اور ہم اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کریں گے۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کی جمعرات کو اختر مینگل سے ملاقات بھی طے پاچکی ہے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اتحادیوں سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔ (فائل فوٹو)
تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اتحادیوں سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

اس معاملے پر سینٹر مشاہداللہ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کے وزرا کا وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک نہ ہونا اور دیگر اتحادی جماعتوں کا بیک وقت اپنے تحفظات سامنے لانے سے لگتا ہے کہ حکومت کے گھر جانے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔

دوسری جانب مہتاب راشدی کا مؤقف ہے کہ اتحادیوں کے حکومت سے گلے شکوے محض میڈیا میں پذیرائی اور وزارت کے حصول سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے طرز حکمرانی میں بہتری نہ آئی اور عوام کے بنیادی مسائل حل نہ ہوئے تو عمران خان کے لیے حکمرانی مشکل ہوجائے گی۔ البتہ انہیں فوری طور پر حکومت کی تبدیلی کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG