رسائی کے لنکس

logo-print

شہابِ ثاقب ٹکرانے سے ہی ڈائنوسار کی نسل ختم ہوئی: نئی تحقیق سے ثابت


ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے کی ڈینوساروں کی دنیا، ایک آرٹسٹ کی نظر میں۔

سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک تجرباتی ماڈل سے یہ کھوج لگا لیا ہے کہ آخر دنیا سے ڈائنو سار کی نسل کیسے مٹ گئی جب کہ ان کی تعداد ایک اندازے کے مطابق کروڑوں میں تھی اور کرۂ ارض پر ان کا راج تھا۔

یہ نظریہ پہلے سے موجود ہے کہ ایک بڑے شہابِ ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں اتنی توانائی پیدا ہوئی اور اس قدر گرد و غبار اٹھا جس میں زمین پر جانداروں کا زندہ رہنا ممکن نہ رہا اور ڈائنو سار کی نسل مٹ گئی۔ تاہم اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس شواہد موجود نہیں تھے۔

جزیرہ نما میکسیکو کے جس علاقے میں خلا میں بھٹکتا ہوا شہاب ثاقب ٹکرایا تھا وہاں ایک بہت بڑا اور گہرا گڑھا آج بھی موجود ہے، جسے چکسلو کریٹر کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین سے ٹکرانے والی اس خلائی چٹان کا قطر 11 سے 81 کلومیٹر کے درمیان تھا۔

اب امپیریل کالج آف لندن کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے کی دنیا کا ایک کمپیوٹر ماڈل تیار کر کے اس سے ایک بہت بڑے شہابِ ثاقب کے ٹکرانے کا مشاہدہ کیا ہے، جس نے کرۂ ارض کے ماحول کو یکسر بدل دیا تھا۔

ڈینوسار ایک آرٹسٹ کی نظر میں
ڈینوسار ایک آرٹسٹ کی نظر میں

ماڈل یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب شہابِ ثاقب 60 ڈگری سے زمین سے ٹکرایا تو زمین کی سطح اور فضائی ماحول پر شدید اثرات مرتب ہوئے اور کرۂ ارض کا منظر کلی طور پر تبدیل ہو گیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شہابِ ثاقب ٹکرانے سے اربوں ٹن سلفر گیس پیدا ہوئی جس نے سورج کی کرنوں کو زمین پر پہنچنے سے روک دیا۔ اس سے زمین پر نیوکلیائی سرد دور کا آغاز ہوا، جس نے ڈائنو سار کی پوری نسل اور کرۂ ارض پر موجود 75 فی صد حیات کو ختم کر دیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سائنس دانوں نے شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے اور اس کے اثرات سے متعلق ڈیٹا کا تھری ڈی تصویری شکل میں مشاہدہ کیا۔ گویا وہی منظر دوبارہ پیدا کیا گیا تھا جو ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے پیش آیا تھا۔

تھری ڈی کا یہ ماڈل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیسیلٹیز کونسل کے ہائی پرفارمنس کمپیوٹر لیب میں تیار کیا گیا۔

واشنگٹن کے سمھ سونیئن میوزیم میں رکھا گئے ایک ڈئنوسار کا ڈھانچہ
واشنگٹن کے سمھ سونیئن میوزیم میں رکھا گئے ایک ڈئنوسار کا ڈھانچہ

اس ریسرچ کی قیادت امپیریل کالج کے ڈپارٹمنٹ آف ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کے پروفیسر گارتھ لولنز نے کی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت جو کچھ ہوا وہ ڈائنو سارز کے لیے ایک بدترین صورتِ حال تھی۔ شہاب ثاقب کے ٹکرانے سے آب و ہوا کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے والی گیسیں انتہائی غیرمعمولی مقدار میں خارج ہوئیں، جس سے تباہی کے ایک ایسے سلسلے نے جنم لیا جو ڈائنو سار کی نسل کے خاتمے پر منتج ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شہاب ثاقب زمین سے ایک ایسے زاویے سے ٹکرایا تھا جو تباہ کن تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ماڈل یہ بتاتا ہے کہ شہاب ثاقب انتہائی ترچھے زاویے سے زمین سے ٹکرایا تھا۔ ہمارا اندازہ ہے کہ یہ زاویہ 60 ڈگری تھا جو بہت تباہ کن ثابت ہوا۔ ہمارا ماڈل یہ بھی بتاتا ہے کہ شہاب ثاقب شمال مشرق سے آیا تھا۔ ان عوامل کی بنا پر زمین سے بڑے پیمانے پر گرد وغبار اڑ کر پورے فضائی ماحول میں بکھر گیا، جس نے سورج کی کرنوں کا راستہ روک دیا۔ اور ایک طویل سرمائی دور شروع ہو گیا۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 12 کروڑ سال پہلے چین میں اس طرح کے ڈینوسار کثرت سے موجود تھے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 12 کروڑ سال پہلے چین میں اس طرح کے ڈینوسار کثرت سے موجود تھے۔

میکسیکو کے جس علاقے میں شہاب ثاقب گرنے سے چکسلو نامی بہت بڑا گڑھا پڑا تھا، آج وہ سیاحت کے لیے کھلا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی تہہ میں مسام دار کاربن کے مرکبات اور چٹانیں ہیں جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، گندھک اور پانی ہے۔

امپیریل کالج، یونیورسٹی آف فریبرگ اور آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنس دانوں نے شہاب ثاقب گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے کی شکل و شہبات اور اس کی سطح کے مواد کا معائنہ کیا اور اس ڈیٹا کو کمپیوٹر ماڈل میں استعمال کر کے شہاب ثاقب گرنے کے اثر اور اس کی سمت کا تعین کیا۔

سائنس دانوں نے مزید تجزیے کے لیے تقریباً 200 کلومیٹر چوڑے گڑھے میں ڈرلنگ کر کے چٹانی نمونے حاصل کیے، جن سے پتا چلا کہ شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں توانائی کی بہت بڑی مقدار خارج ہوئی تھی۔

وہ اتنی قوت سے زمین سے ٹکرایا تھا کہ اس کے مرکزی حصے کی چٹانیں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور ان کے ٹکڑے زمین کے نیچے 30 کلومیٹر تک بکھر گئے۔

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہمیں نہ صرف یہ پتا چلا ہے کہ شہاب ثاقب نے ڈائنو سار کی نسل کے خاتمے میں کس طرح کردار ادا کیا بلکہ یہ جاننے میں بھی مدد ملی ہے کہ دوسرے سیاروں پر بڑے بڑے گڑھے کس طرح بنے ہوں گے۔

تحقیق کے شریک مصنف فریبرگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اوریول رائے کہتے ہیں کہ اگرچہ شہاب ثاقب کی چٹانیں زمین کے اندر تقریباً ایک کلومیٹر کی گہرائی میں ہیں، لیکن یہ تحقیق گڑھے کی ساخت اور خلائی چٹان کی سمت اور گرنے کے زاویے اور اس کے اثرات کے متعلق بہت کچھ منکشف کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG