رسائی کے لنکس

جبری گمشدگیوں کی ’حالیہ لہر‘ پر ایچ آر سی پی کی تشویش


ایچ آر سی پی کی طرف سے پیر کی شب جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگی کے حالیہ واقعات میں کراچی میں بلوچ طلبہ اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے جبری گمشدگیوں کی حالیہ لہر کی شدید مذمت کی ہے۔

ایچ آر سی پی کی طرف سے پیر کی شب جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگی کے حالیہ واقعات میں کراچی میں بلوچ طلبہ اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر اگر کوئی الزام ہے تو انہیں اپنے قانونی دفاع کا حق دیا جائے یا اگر سکیورٹی فورسز نے انہیں اپنی تحویل میں لے رکھا ہے تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کراچی میں ایک گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد وہاں سے چار بلوچ طلبہ ثناء اللہ (عرف عزت بلوچ)، حسن (عرف نودان)، نصیر احمد (عرف چراغ) اور رفیق بلوچ (عرف قمبر) کے علاوہ جامعہ کراچی کی ایک کینٹین سے طالبِ علم صغیر احمد کو اٹھایا تھا۔

تاہم سکیورٹی فورسز کی طرف سے اس الزام پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمیشن تمام پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی گرفتاری اور حراست کی مذمت کرتا ہے اور یہ بھی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ لاپتا افراد سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں تو انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان نے خاص طور پر وزیرِاعظم اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی موثر نگرانی کی جائے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب نہ ہوں۔‘‘

پاکستانی حکومت اور سکیورٹی کے ادارے ایسے الزامات کی نفی کرتے رہے ہیں کہ ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ملوث ہیں۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سربراہ سابق جسٹس جاوید اقبال نے گزشتہ ماہ سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا تھا کہ لاپتا افراد کی ایک بڑی تعداد کے معاملات نہ صرف نمٹا دیا گیا ہے بلکہ اُن کے بقول بلوچستان سے رپورٹ ہونے والے ایسے واقعات میں قابلِ ذکر کمی بھی دیکھی گئی ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کہہ چکے ہیں کہ لاپتا ہونے والے افراد سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار درست نہیں کیونکہ اُن کے بقول جب ان افراد کے نام اور پتے دریافت کیے جاتے ہیں تو ٹھوس معلومات سامنے نہیں آتیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے 2011ء میں جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتا افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا تھا۔

حکومت میں شامل عہدیدار کہتے رہے ہیں کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ لاپتا افراد کو منظرِ عام پر لایا جاسکے۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ ایک سنجیدہ مسئلہ رہا ہے اور حالیہ برسوں میں اس بارے میں سپریم کورٹ از خود نوٹس لیتے ہوئے سماعت بھی کرتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG