رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کا ازالہ ضروری ہے: عمران خان


عمران خان، فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلام کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا اور انتہاپسندی وہاں جنم لیتی جہاں معاشرے کے کچھ طبقوں کو حقوق سے محروم کر دیا جائے۔

عمران خان نے پاکستان اور ترکی کے اشتراک سے نیو یارک میں منعقد ہونے والی 'نفرت پر مبنی بیانیے' سے متعلق راؤنڈ ٹیبل مباحثے میں شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کا ازالہ انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان اور ترکی نے اس مباحثے کا اہتمام بدھ کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس کے موقع پر کیا۔

مباحثے میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے خطاب کیا۔ اُن کے علاوہ اقوام متحدہ کے الائنس آف سویلائزیشن کے لیے اعلیٰ نمائندے میگوئل اینگل مورے ٹینوس نے بھی خطاب کیا۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں مذہب اور تشدد کی بنیاد پر امتیاز برتنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے خود کش حملے سری لنکا کے تامل ٹائگرز کر رہے تھے جو ہندو تھے۔ لیکن ان کا کہیں ذکر نہیں کیا جاتا اور دنیا بھر میں دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہر مذہب میں روشن خیال اور اعتدال پسند لوگوں کے ساتھ ساتھ بنیاد پرست اور انتہا پسند بھی موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت میں نسلی طور پر انتہا پسند برسر اقتدار ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ مغربی ممالک میں لوگ مذہب کے بارے میں اُس انداز میں نہیں سوچتے جیسے مسلمان اپنے مذہب کے حوالے سے سوچتے ہیں۔ لہذا جب پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ جملے کہے جاتے ہیں تو مسلمانوں کو شدید دکھ ہوتا ہے۔

عمران خان نے زور دیا کہ مسلمان ملکوں کے رہنماؤں کو چاہئیے کہ وہ مغربی ممالک کو بتائیں کہ جس طرح ہولوکاسٹ کے نتیجے میں یہودیوں کو انتہائی دکھ اور تکلیف ہوئی تھی اس طرح مسلمانوں کو بھی توہین مذہب پر دکھ ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز بیانیے جرائم کی خراب ترین شکل ہے۔

انہوں نے بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام ہر ہجوم کی طرف سے کیے جانے والے قتل کے واقعات کا ذکر کیا اور کہا کہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ وہاں بہت زیادہ خون خرابہ ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG