رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں کرفیو ہٹایا جائے: عمران خان


وزیر اعظم عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 50 دن سے جاری کرفیو ہٹایا جائے، جہاں 80 لاکھ لوگ محصور بن کر رہ گئے ہیں، جس صورت حال کو انھوں نے ’’بدترین ریاستی دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔

منگل کی شام نیو یارک میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کیوبا کے بحران کے بعد پہلی بار دو ایٹمی ریاستیں آمنے سامنے ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی منظور کردہ 11 قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برداری بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی مسلمان آبادی کو استصواب رائے کا حق دلانے میں معاونت کرے۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی جماعت نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت کی پیش کش کی اور اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ دونوں ملکوں کے مسائل یکساں ہیں، جن میں غربت، بے روزگاری اور صحت عامہ کے مسائل شامل ہیں؛ اور یہ کہ تمام مسائل باہمی بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں۔

تاہم، انھوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی حکومت ’’نسل پرستی‘‘ پر یقین رکھتی ہے، جس نے بات چیت کی پاکستانی پیش کش کو مسترد کیا۔ ساتھ ہی بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت الزام لگاتی ہے کہ پاکستان 500 دہشت گرد بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر بھیجنا چاہتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی 80 لاکھ مسلمان آبادی کی سیاسی قیادت کو قید کیا گیا ہے، جب کہ وہاں نو لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے احاطے سے باہر، عالمی سربراہان سے ملاقات کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل، ترکی کے صدر طیب اردوان اور ایران کے صدر حسن روحانی سے وہ ملاقات کر چکے ہیں؛ جب کہ دیگر امور کے علاوہ ان سے کشمیر کی صورت حال پر گفتگو ہوئی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کرفیو ہٹائے جانے سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

طیب اردوان سے ملاقات کے بارے میں سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ترک صدر آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگلے ماہ کشمیر کے ایجنڈے پر بات چیت کے لیے اسلامی ممالک کی تنظیم کا سربراہ اجلاس منعقد ہوگا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں مذکرات سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملات طے ہونے سے قبل ہی بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوا جسے جاری رہنا چاہیے۔

نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی بھی موجود تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG