رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا حکومت سے مذاکرات کامیاب، ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا میں ضلعی اور علاقائی سطح پر اسپتالوں کا انتظام چلانے کے لیے نیا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس کے خلاف ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ احتجاج کر رہا تھا تاہم اب حکومت سے مذاکرات کے بعد 46 روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

اتوار کو صوبائی اسمبلی سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے قائم کردہ گرینڈ ہیلتھ الائنس نے وزیر اعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد ہڑتال اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق احتجاجی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

اعلامیے میں کمیٹی میں شامل وزرا اور اس کے اعراض و مقاصد کے بارے میں باضابطہ طور پر نہیں بتایا گیا۔

گرینڈ الائنس کے وفد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کی
گرینڈ الائنس کے وفد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کی

گرینڈ الائنس کے صدر ڈاکٹر عالمگیر خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری تھا۔ جو بالآخر اتوار کو مکمل ہوا۔

ان کے بقول حکومت نے نئے قانون کے بارے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے تمام تر تحفظات کو حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ڈاکٹر عالمگیر خان نے کہا کہ اس سلسلے میں وزرا اور گرینڈ الائنس کے تین نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں تمام تر مسائل پر غور ہو گا اور اتفاق رائے سے نئے قانون میں مناسب ترامیم اور تبدیلیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

گرینڈ الائنس کے صدر نے بتایا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کے مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔ ملازمین کی سروسز اور پنشن کے تحفظ پر حکومت نے مکمل طور پر اتفاق کیا ہے۔

گرینڈ الائنس میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے ارکان شامل ہیں
گرینڈ الائنس میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے ارکان شامل ہیں

احتجاج کے دوران گرینڈ الائنس نے 25 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی درخواست پر یہ دھرنا معطل کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کو یقین دہانی پر عمل درآمد سے انکار کر دیا تھا ۔ اسی وجہ سے گرینڈ الائنس نہ صرف وزیر صحت سے مذاکرات سے انکار کیا تھا بلکہ ان کی وزارت سے علیحدگی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

ہڑتال اور احتجاج کے دوران اکتوبر کے اوائل میں پولیس نے پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں مظاہرین پر تشدد بھی کیا تھا۔ جس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر زبیر سمیت 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں دو خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔

احتجاج کرنے والے 39 ڈاکٹرز اور مختلف تنظمیوں کے عہدیداروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے جبکہ 13 ڈاکٹرز کو گرفتار کرکے مردان جیل منتقل کیا گیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے گرفتار ڈاکٹروں کو مشروط طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا جسے گرینڈ الائنس نے مسترد کر دیا تھا ۔

واضح رہے کہ ستمبر 2019 کے آخر میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے صوبائی اسمبلی سے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے ذریعے تمام سرکاری اسپتالوں کے انتظام کے ڈویژنل اور ضلعی سطح پر خود مختار بورڈ تشکیل کی منظوری دی کی گئی تھی۔

قانون کے کے مطابق خود مختار بورڈز میں سرکاری عہدیداروں کے علاوہ سماجی اور سیاسی نمائندے بھی شامل ہوں گے جو سرکاری اسپتالوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات اُٹھانے کے پابند ہوں گے۔

ڈاکٹر، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین نے اس قانون کو سرکاری اسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔

چند روز قبل صوبائی حکومت نے ایک اعلان میں ہڑتال کرنے والے ڈاکٹرز اور ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ ان کی جگہ بھرتیاں کرنے کے یے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کیے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG