رسائی کے لنکس

مجھے اپنے ہندوستانی ہونے پرفخر ہے۔ اپنے ملک سے پیارہے لیکن آپ میں سے چند کے لئے میں قوم پرست نہیں کیونکہ میں سوال اور تنقید کرتی ہوں۔ متعصب اور جانب دار آپ ہیں، میں نہیں۔

بھارتی اداکارہ سونم کپور نے جو اپنے دو ٹوک انداز اور نڈر سوچ کے لئے جانی جاتی ہیں، حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا ہےکہ ’’ میں نے مودی کو ووٹ دیا ہو یا نہ دیا ہو، میں مودی سے سوال کرنے کا حق رکھتی ہوں۔ ‘‘

کھلے خط کے اندازمیں اپنی تحریرکا آغازکرتے ہوئے سونم کپور لکھتی ہیں کہ’مجھے اپنی شخصیت کا بخوبی اندازا ہے اس لئے آپ کویہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں کون ہوں،مجھے کیسے کپڑے پہننے اورکیا بات کرنی چاہئے۔‘

’میں نے سنجے لیلا بنسالی کی فلم ’پدماوتی‘ کے سیٹ پرتوڑپھوڑ کے بارے میں بات کی۔گوشت پرپابندی کے خلاف آوازاٹھائی ۔تھوڑا دماغ استعمال کرنا شروع کریں۔میرا مشورہ ہے کہ بات کرنا سیکھیں اوراختلاف رائے واظہارپراتفاق کرنا سیکھیں۔انٹرنیٹ پرہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کریں۔‘۔

سونم کپور کے یہ مشورے ان سوشل میڈیا صارفین کے لئے ہیں، جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی زبان میں ٹرولز کہلاتے ہیں۔

بھارتی روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ نے ’’لیٹس ٹاک اباؤٹ ٹرولز‘ کے نام سے تحریروں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اسے آپ ’مہم‘ بھی کہہ سکتے ہیں ۔

Courtesy: Hindustan Times
Courtesy: Hindustan Times

'ٹرول' کے لفظی معنی ’کسی پرپھبتی کسنا‘یا’ باتیں سنانا‘ ہیں۔ بھارتی روزنامے کے ’لیٹس ٹاک آباؤٹ ٹرولز‘ نامی سلسلے میں مشہور شخصیات دوسروں کے بیانات، ان کی پالیسیوں اور نظریات پر کھل کر اظہار خیال اور تنقید کرسکتی ہیں۔ سونم کپورکو بھی اسی سلسلے کے تحت اظہار خیال کا موقع دیا گیا ۔

وہ اپنے اظہاریئے میں لکھتی ہیں کہ 'سوشل میڈیا بہت موثر ہتھیار ہے۔اپنی آن لائن موجودگی کی وجہ سے مجھے فلاحی کاموں کو مقبولیت دینے میں مدد ملی۔اس کے ذریعے میں نے اپنی فلم’نیرجا ‘کے لئے زبردست مہم بھی چلائی ۔‘

سونم کپور لکھتی ہیں کہ 'میں کتھک ڈانس سیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں ۔میں بھارتی تاریخ کی طالب علم ہوں اورمیری پرورش بھارت پر فخر کرتے ہوئے ہوئی ہے ۔ میں نے تقسیم ہند کے بعد کی خوبصورت فلمیں دیکھی ہیں، جن سے سرشاری اورخوشی کااحساس ہو تا تھا۔ اس وقت لوگ سوال کرنے سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔اپنا نکتہ نظر رکھنا انہیں خوف زدہ نہیں کرتا تھا۔ہم ایسی قوم نہیں تھے کہ ہمیں سیاسی طور پر کسی کودرست کرنا پڑے۔اوراب آپ ہمیں بتائیں گے کہ حکومت پرتنقید کب کرنی ہے؟'

سونم لکھتی ہیں کہ 'میں حکومت پرتنقید کیوں نہیں کرسکتی؟ کیا اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنا جمہوریت نہیں؟ اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میں نے نریندر مودی کو ووٹ دیا ہے یا نہیں؟ دونوں صورتوں میں ہمیں سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے۔‘

سونم اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر کا اظہار کرتی ہیں ، اور کہتی ہیں کہ 'مجھے اپنے ملک سے پیارہے لیکن آپ میں سے چند کے لئے میں قوم پرست نہیں کیونکہ میں سوال اور تنقید کرتی ہوں۔ متعصب اور جانبدار آپ ہیں، میں نہیں۔ ایک بار پھر سے قومی ترانہ سنیں اور اس کی وہ لائنیں یاد کریں جوآپ نے بچپن میں سنیں ۔۔ ہندو،مسلم،سکھ ،عیسائی۔۔'

'میں ہندو ہوں لیکن میرے بہترین اورقریبی دوست مسلمان ہیں، لیکن میں انہیں وعظ نہیں کرتی ۔میں کٹر سبزی خور ہوں اور انڈے تک نہیں کھاتی لیکن اگر کوئی دوسرا کھائے تو مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔'

سونم کے بقول، 'عوامی زندگی میں ہم رول ماڈلز ہیں۔ٹوئٹر پرمیرے 10 ملین فالوورز ہیں اور اگر ان میں سے دس فیصد بھی ٹرولز ہیں تب بھی تعداد نو ملین بنتی ہے جن کے سامنے میں خود کو جواب دہ محسوس کرتی ہوں۔ میں ان کے سامنے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتی ہوں'۔

سونم لکھتی ہیں کہ 'یہ ضروری ہے کہ آپ کسی بھی مسئلے پر واضح رائے رکھتے ہوں اور بغیرکسی خوف کے اس کا اظہار کریں بجائے اس کے کہ بزدلوں کی طرح بغیر کوئی پوزیشن لئے خود کوبچانے کی کوشش کریں۔'

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG