رسائی کے لنکس

logo-print

آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ آخر وجہ کیا ہے؟


Land of the Strays

پاکستان کے صوبہ سندھ میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 69 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ انکشاف صوبائی محکمہ صحت کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں یہ تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ ڈاکٹر مسعود احمد سولنگی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع میں کتے کے کاٹنے کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 22 ہزار 822 ہے۔

'لاڑکانہ ڈویژن کا ضلع قمبر شہداد کوٹ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع ہے جہاں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ایسے 7,678 واقعات رونما ہوئے.'

اسی طرح حیدرآباد ڈویژن کے اضلاع میں کتے کے کاٹنے کے 21 ہزار 99 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے زیادہ تر تعداد ضلع دادو کی تھی جہاں ایسے 6989 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق شہید بینظیر آباد ڈویژن میں 12173، میرپورخاص ڈویژن میں 6774، لاڑکانہ ڈویژن میں 6263 اور کراچی میں پہلے پانچ ماہ کے دوران 320 واقعات رپورٹ ہوئے۔ کراچی میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں سب سے زیادہ تعداد ضلع ملیر میں رہی جہاں 274 افراد کو کتوں نے کاٹا۔

ویکیسین کی عدم دستیابی

ماہرین صحت کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ اندرون سندھ کے علاقوں میں ویکسین کی عدم دستیابی ہے۔

کتے کے کاٹنے کے بعد مریض کو 'اینٹی ریبیز ویکسین' دی جاتی ہے تاہم یہ سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ہی میسر ہے۔

ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث اب تک گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جن میں چھ افراد جناح اسپتال میں دوران علاج ہلاک ہوئے۔

ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، جس سے یہ تعداد بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔

ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اسپتال میں کتے کے کاٹنے کے چھ ہزار سے زائد مریضوں کو اب تک لایا جا چکا ہے اور ان میں سے اکثر کراچی سے باہر کے بھی ہوتے ہیں۔ 'بعض کے زخم انتہائی خراب ہو چکے تھے جس کے باعث ان کی اموات واقع ہو گئیں.' حکام کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے زیادہ تر واقعات میں بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ کراچی کے انڈس اسپتال کی ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ملک بھر خصوصاً سندھ میں ان واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اس کے تدارک کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات روکنے کے لئے معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے آوارہ کتوں کو بلاوجہ تنگ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ان کے بقول اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ کتے بھوکے یا زخمی نہ ہوں جبکہ مقامی انتظامیہ کا یہ کام ہے کہ آوارہ کتوں کو یا تو تلف کیا جائے یا ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے عوام کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

انڈس اسپتال کی جانب سے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری اور دیگر علاقوں میں پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن اس میں بڑے پیمانے پر سرمائے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لئے یہ کوشش ایک محدود پیمانے تک ہی مثبت نتائج دے پاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آوارہ کتوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے، ان کے بقول ویکسین کی ہر جگہ فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

ماہرین حیوانیات کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سری لنکا اور تھائی لینڈ کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے جہاں کتے کے کاٹنے کے واقعات کی شرح میں بہت حد تک کمی لائی جا چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG