رسائی کے لنکس

یہ انعام بدصورتی کا نہیں ہے


بدصورتی کا عالمی انعام جیتنے والا انگلش بل ڈاگ زازا
بدصورتی کا عالمی انعام جیتنے والا انگلش بل ڈاگ زازا

یہ تصویر زازا کی ہے۔ اس کی عمر نو سال ہے۔ مگر یہ کوئی عام کتا نہیں ہے، انگلش بل ڈاگ ہے اور اس نے جیتا ہے بدصورتی کا عالمی انعام۔ لیکن یہ انعام بدصورتی کا نہیں ہے۔

زازا کی زبان معمول سے لمبی ہے اور ہر وقت جبڑوں سے باہر لٹکتی رہتی ہے۔ اس کا وزن بھی معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کی وحشت ہے اور جب اس پر پہلی نظر پڑتی ہے تو خوف سے جھرجھر ی سی آ جاتی ہے۔ یہ اس کی ہیبت اور دہشت ہی ہے کہ وہ جیوری کو مقابلے میں شامل دوسرے کتوں کے مقابلے میں مختلف اور منفرد لگا اور انہوں نے اسے بدصورت کتوں کے عالمی انعام کا حق دار قرار دے دیا۔ لیکن یہ انعام بدصورتی کا نہیں ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ایک شہر پیٹالوما میں ہر سال گرمیوں میں بدصورت کتوں کا عالمی مقابلہ ہوتا ہے جس میں دور دراز سے لوگ اپنے کتوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

سن 2012 میں بدصورتی کا مقابلہ جیتنے والا چینی کتا
سن 2012 میں بدصورتی کا مقابلہ جیتنے والا چینی کتا

یہ ایک طرح سے فیشن شو جیسی تقریب ہوتی ہے جس میں اسٹیج کے ریڈ کارپٹ پر کتے اپنے سرپرستوں کے ساتھ حاضرین اور کیمروں کی چکاچوند روشنیوں میں کیٹ واک کرتے ہیں۔

مقابلوں کا یہ سلسلہ 1970 کے عشرے میں شروع ہوا تھا جو اب ایک بڑی رنگارنگ تقریب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے تین ہزار کے لگ بھگ شائقین موجود ہوتے ہیں اور کئی میڈیا چینل اسے براہ راست نشر کرتے ہیں۔

یہ منظر بڑا دلچسپ ہوتا ہے، مالک اپنے کتوں کے ساتھ اسٹیج پر آتے ہیں، کوئی کتا بے ہنگم موٹا ہوتا ہے اور کوئی اتنا دبلا کہ غور سے دیکھو تو نظر آئے۔ کوئی گنجا ہوتا ہے تو کسی کے بدن پر بھالو کی طرح بال ہوتے ہیں، کوئی اچھل اچھل کر چلتا ہے تو کوئی گویا کچھوئے کی طرح رینگ رہا ہوتا ہے۔

بدصورتی کے اس مقابلے میں لوگوں کی دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ وہ شرکت کے لیے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے پیٹالوما آتے ہیں۔

سن 2011 میں بدصورتی کا مقابلہ جیتنے والا کتا
سن 2011 میں بدصورتی کا مقابلہ جیتنے والا کتا

اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ زازا کو مقابلے میں لانے کے لیے مسز بریناڈ کو منی سوٹا سے پیٹالوما تک کا فاصلہ طے کرنے کے لیے 30 گھنٹوں تک اپنی کار چلانا پڑی۔

مسز بریناڈ کہتی ہیں کہ زازا کو بدصورتی کا انعام ملا ہے، لیکن میرا کتا بہت خوبصورت ہے۔ کوئی میرے دل سے پوچھے تو۔

کیلی فورنیا میں ہر سال منعقد کیے جانے والے بدصورتی کے مقابلے کی روح وہ خوبصورتی ہے جو انسان کے دل میں ہوتی ہے۔

امریکہ کے گھروں میں 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 9 کروڑ پالتو کتے ہیں۔ تاہم یہاں کتا پالنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ کوئی تیسری دنیا کے کتے نہیں ہیں کہ آپ نے بچے کچے روٹی کے ٹکڑے ڈال دیے اور وہ آپ کی دہلیز پر بیٹھا پیار سے دم ہلاتا رہے گا۔ یہاں کتوں اور پالتو جانوروں کے بھی حقوق ہیں، ذرا کوتاہی ہو جائے تو نگران اداروں کے اہل کار دروازے پر آ جاتے ہیں۔

سن 2014 میں بدصورتی کا مقابلہ جیتنے والا کتا
سن 2014 میں بدصورتی کا مقابلہ جیتنے والا کتا

ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کتے کی دیکھ بھال، خوراک اور علاج معالجے کا سالانہ خرچ ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ صرف ڈالروں پر ہی موقوف نہیں ہے، بھلے سے کتنی ہی مصروفیت کیوں نہ ہو، آپ کو اپنے کتے کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے، چاہے برف ہو یا چلچلاتی دھوپ، اسے ٹہلانے کے لیے لے جانا پڑتا ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں آپ کو جو پیار اور خلوص ملتا ہے، اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔

گھروں میں رکھے جانے والے اکثر کتے اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر قدم رک سے جاتے ہیں۔ پھر یہ بدصورت کتے کہاں سے آتے ہیں اور کیا انہیں پالنے والے مہم جو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ؟ جی نہیں، ایسی بات بھی نہیں ہے۔

اصل میں یہ وہ کتے ہیں جو کسی وجہ سے اپنے مالکوں سے بچھڑ جاتے ہیں، یا گم ہو جاتے ہیں یا کسی وجہ سے ان کے مالک انہیں نکال دیتے ہیں اور پھر غریب الوطنی اور ٹھوکریں یا حادثات ان کی ہیت اور حلیہ بدل دیتی ہے۔ یا پھر کچھ پیدا ہی بدصورت ہوتے ہیں اور انہیں کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ان کی آخری منزل لاوارث کتوں کے مرکز ہوتے ہیں جو ان کی دیکھ بھال بھی کرتے ہیں اور ایسے افراد کو ڈھونڈتے ہیں جو انہیں اپنے گھر لے جا سکیں۔

بدصورت کتوں کا عالمی مقابلہ اصل میں لاوارث کتوں کو گود لینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ بدصورتی کا مقابلہ نہیں ہے، بلکہ خوبصورت دل رکھنے والوں کو خراج پیش کرنا ہے۔

اور ہاں یہ تو ہم آپ کو بتانا بھول ہی گئے، یہ مقابلہ جیتنے والے کو 1500 ڈالر اور ایک بہت بڑا کپ دیا جاتا ہے اور کئی ٹی وی چینل انہیں اپنے اسٹوڈیوز میں انٹرویو کے لیے ہوائی ٹکٹ اور ہوٹل کی مفت رہائش فراہم کرتے ہیں۔

  • 16x9 Image

    جمیل اختر

    جمیل اختر وائس آف امریکہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ وہ وی او اے اردو ویب پر شائع ہونے والی تحریروں کے مدیر بھی ہیں۔ وہ سائینس، طب، امریکہ میں زندگی کے سماجی اور معاشرتی پہلووں اور عمومی دلچسپی کے موضوعات پر دلچسپ اور عام فہم مضامین تحریر کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG