رسائی کے لنکس

عید پر دوحہ کے زیادہ تر ہوٹل خالی پڑے ہیں


قطر کے حامد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ڈیپارچر لاونچ خالی پڑا ہے۔ 26 جون 2017

ایک فائیواسٹار ہوٹل کے عہدے دار نے بتایا کہ اس موقع پرعموماً ہمارے کمرے سعودی عرب اور بحرین سے آنے والے مہمانوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔لیکن اس سال وہ نہیں آئے۔

دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں عرب ملکوں کی جانب سے قطر کے بائیکاٹکے نتیجے میں سیاحت کا کاروبار سمٹ رہا ہے اور دوحہ کے ہوٹل جو عموماً عید کی تعطیلات میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں ، زیادہ تر خالی پڑے ہیں اور انہوں نے اپنے کرائے کم کر دیے ہیں۔
خبررساں ادارے روئیٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دوحہ کے پانچ بڑے ہوٹلوں میں اتوار کے روز عید کی تعطیلات کے آغاز پر صرف 57 فی صد کمرے بک تھے ۔ رمضان المبارک کے اختتام کے بعد یہ وہ موقع ہوتا ہے جب لوگ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے نکلتے ہیں اور دوحہ کے ہوٹلوں میں جگہ نہیں ملتی۔
ایک فائیواسٹار ہوٹل کے عہدے دار نے بتایا کہ اس موقع پرعموماً ہمارے کمرے سعودی عرب اور بحرین سے آنے والے مہمانوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔لیکن اس سال وہ نہیں آئے۔
ہوا بازی کے شعبے کے ایک تجزیہ کار ول ہارٹن کا کہنا ہے کہ حامد انٹرنیشنل ایئر پورٹ ، جو مشر قوسطیکے مصروف ترین ہوئی اڈوں میں شامل ہے، جولائی کے آغاز تک وہاںپچھلے سالکے مقابلے میں 76 فی صد فلائٹس آئیں گی۔ جس کی وجہ سے27 ہزار کم مسافر وں کی کمی ہوگی۔
قطر کے تقر یباً 50 فی صد مسافروں کا تعلق خلیجی تعاون کونسل کے ملکوں سے ہوتا ہے۔ چنانچہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب 5 جون سے شروع ہونے والے بائیکاٹ کے نتیجے میں قطر کی فضائی ٹریفک پر برااثر پڑا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چار عرب ملکوں کی جانب سے الٹی میٹم جاری ہونے کے بعد فی الحال اس مسئلے کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ان کی شرائط میں الجزیرہ ٹیلی وژن کی بندش، ایران کے ساتھ رابطے توڑنا، ترکی کا فوجی مرکز بند کرنا شامل ہیں۔
قطر عرب ملکوں کے ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ وہ دہشت گروپوں کی مدد کرتا ہے۔
اس تنازع کی وجہ سے قطر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی سینکڑوں ہفتہ وار پروازیں پہلے ہی منسوخ ہو چکی ہیں۔ حامد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو فضائی کمپنیوں کی جانب سے فیسوں کی ادائیگی، ڈیوٹی فری شاپ اور ریستورانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فضائی رابطے کٹنے سے قطر ایئر لائنز کی تقریباً 25 فی صد پر وازیں بند ہو چکی ہیں ۔ قطر ایئر لائن کا شمار علاقے کی تین سب سے بڑی فضائی کمپنیوں میں کیا جاتا ہے۔
قطر نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کا اثر فٹ بال کے عالمی کپ پر نہیں پڑے گا اور ورلڈ کپ کے شائقین کے ٹہرنے کے لیے 46 ہزار کمرے موجود ہوں گے۔ جب کہ اس سال مارچ تک قطر میں 119 ہوٹل کام کررہے تھے اور ان کے پاس 23347 کمروں کی گنجائش موجود تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG