رسائی کے لنکس

logo-print

پنجاب میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ


(فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گھریلو جھگڑوں پر خواتین کے قتل اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کے مطابق چند واقعات میں ذمہ داروں کو سزا مل جاتی ہے، لیکن بیشتر واقعات میں فریقین کے مابین صلح ہو جاتی ہے۔

لاہور میں 30 جنوری کو بھی ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس میں تیسری بیٹی کی پیدائش کا قبل از وقت علم ہونے پر مبینہ طور پر خاوند نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔

پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے ہیئر گاؤں کی ارم اقبال کی پہلے دو بیٹیاں تھیں، تاہم دوران الٹرا ساؤنڈ تیسری بیٹی کا علم ہونے پر ارم اقبال کو شوہر اور سسرالیوں نے جان سے مار دیا۔ ارم شادی کے بعد قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں مقیم تھیں۔

ایف آئی ار کے مطابق تیسری بیٹی کا پتا چلنے پر ہی سسرالیوں نے ارم کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ارم کو دو ملزمان وقاص اور غفار نے ٹانگوں سے پکڑا جبکہ ملزمہ سکینہ بی بی نے اُس کے منہ پر تکیہ رکھ دیا۔ جس کے بعد ارم کے شوہر وقار نے اُس کا گلا دبایا۔

ارم اقبال کے والد محمد اقبال کا الزام ہے کہ سسرالی دو بیٹیوں کے پیدائش سے ناخوش تھے جبکہ تیسری بار ارم بچے کو جنم دینے جارہی تھی۔ جس کی رپورٹس میں جنس کا علم ہونے پر اسے قتل کیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اقبال کی آواز بھر آئی اور کہا کہ پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد سے جھگڑا رہتا تھا جبکہ دوسری بیٹی کی پیدائش پر تو جھگڑا معمول بن گیا تھا۔ محمد اقبال کے مطابق پولیس تا حال اُن کے داماد کو گرفتار نہیں کر سکی ہے جبکہ باقی ملزمان نے اپنی ضمانت کرا رکھی ہے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

محمد اقبال نے بتایا کہ والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بیٹی کا رشتہ اچھے لوگوں میں ہو۔ لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ ارم کا نصیب ایسا ہو گا۔ ہماری بچی کو ہم سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب بھی بات ہوتی ساس کے نمبر پر ہوتی۔

ارم کے سسر کو واقعہ پر بہت افسوس ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے قتل ہونے والی اِرم کے سسر یعقوب نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو بہت سمجھاتے تھے لیکن وہ باز نہیں آیا۔ اُنہیں اُمید تھی کہ اُن کا بیٹا سدھر جائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا۔

“میں اُس دن سے صدمہ میں ہوں اور میں نے وہ گھر بھی چھوڑ دیا ہے۔ میری پوری کوشش ہے کہ ارم کو انصاف ملے، وہ میری بھی بیٹی تھی۔"

ایسا ہی ایک اور واقعہ لاہور کے علاقے تھانہ فیکٹری ایریا میں گزشتہ سال تین دسمبر کو پیش آیا۔ جس میں پانچ ماہ کی بچی کو خود اُس کے والد اور پھوپھا نے قتل کر دیا تھا۔

تھانہ فیکٹری ایریا پولیس کے مطابق بچی کے باپ نوید اور پھوپھا سنی پطرس نے بچی کی ماں سے رنجش پر بچی کو قتل کیا۔

کیس کے تفتیشی افسر عبدالرشید کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ فیکٹری ایریا میں ننھی بینش کے والد نوید اور پھوپھا سنی پطرس کے خلاف ماں کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔

عبدالرشید کے مطابق اُنہوں نے بچی کے والد نوید اور بھوپھا ملزم سنی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق بچی کی والدہ کے مطابق "میری بیٹی پانچ ماہ کی بینشن کو میری آنکھوں کے سامنے چھت سے پھینکا گیا۔ میں بینش کو اسپتال لے کر گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔

بچی کی والدہ کے مطابق "بچی کا پھوپھا سنی پطرس گھر آیا تو بیٹی رو پڑی، میں نے ازراہ مذاق کہا کہ آپ کو دیکھ کر روئی ہے۔ جس پر وہ طیش میں آ گیا اور میرے شوہر سے مشاورت کے بعد میری بیٹی کو چھت سے پھینک دیا۔"

لیکن بعدازاں بچی کی والدہ نے اپنے شوہر سے صلح کر لی۔ وائس آف امریکہ سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے بینش کی والدہ جسیکا نے بتایا کہ اُس کی اُس کے شوہر کے ساتھ صلح ہو گئی ہے اور میں اپنے گھر واپس آ گئی ہوں۔ لہذٰا مقدمہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

اِسی طرح کا ایک واقعہ ضلع ملتان کے نواحی علاقے بستی ملوک میں پیش آیا۔ جہاں شوہر مختار احمد نے غیرت کے نام پر اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست موصول ہو چکی ہے۔ جلد مقدمہ درج کر کے ملزم کو پکڑ لیا جائے گا۔

حکومتِ پنجاب کا موقف

پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن فاطمہ چدھڑ کہتی ہے کہ حکومت ہر طرح کے گھریلو تشدد کو روکنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

فاطمہ چدھڑ اعداد و شمار تو پیش نہ کر سکیں۔ البتہ اُن کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے رُونما ہو رہے ہیں۔

فاطمہ کے بقول مذہب سے دُوری اور ایک دوسرے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لینے سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔

واقعات کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن کی سابق ڈائریکٹر سمیرا سلیم کہتی ہیں کہ اب ایسے واقعات رپورٹ کرنے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رابعہ کے مطابق ایسے واقعات کے تدارک کے لیے ریاست کا کردار اہم ہے۔ میڈیا کو بھی ایسے واقعات کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

پنجاب پولیس کے مطابق لاہور میں ایک سال کے دوران چار سو سے زائد قتل ہوئے ہیں۔ جن میں پچاس فی صد سے زائد خواتین شامل ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق خواتین کے زیادہ تر قتل گھریلو ناچاقی، تشدد اور غیرت کے نام پر ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG