رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کے متنازع بیانات انتخابات 2020 میں کامیابی کے لیے ہیں؟


فائل فوٹو

صومالی نژاد امریکی خاتون رکنِ کانگریس إلہان عبدالله عمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’فاشسٹ‘ قرار دیا ہے۔

جمعرات کو الہان عمر کا ایک بیان سامنے آیا کہ ’’امریکی صدر نسل پرست ہیں۔ ان کے نسل پرستانہ بیان کی مذمت بھی کی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ فاشسٹ ہیں‘‘۔

رُکنِ کانگریس الہان عمر جب اپنے حلقہ انتخاب مِنیسوٹا پہنچیں تو لوگوں نے ایئرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا۔

اس موقع پر اپنے حامیوں سے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو میرے بارے میں ڈراؤنے خواب آتے ہیں کہ ایک صومالی نژاد مہاجر، کانگریس تک کیسے پہنچ گئی۔

صومالی نژاد امریکی خاتون رکن الہان عمر
صومالی نژاد امریکی خاتون رکن الہان عمر

ان کا مزید کہنا تھاکہ ہم امریکی صدر کو ڈراؤنے خواب سے ڈراتے رہیں گے کیوں کہ ان کی پالیسیاں ہمارے لیے ڈراؤنا خواب ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بیانات پر ارکان کا رد عمل

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے حالیہ متنازع بیانات کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ متعدد ڈیموکریٹ ارکان انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کیلی فورنیا کی سینیٹر کمالہ ہیرس نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلی اور نسل پرستی ہے۔

ایک اور ڈیموکریٹ رُکن الیگزینڈریا اوکاسیو نے کہا کہ ہم نا انصافی کے دور میں واپس نہیں جائیں گے اور ہم اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ ہم آگے بڑھیں گے۔

رِی پبلکن ارکان مجموعی طور پر اس صورتحال پر خاموش ہیں لیکن چند ایک اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

یوٹا کے ایک رِی پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ریلی میں لگائے جانے والے نعرے غلط ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان نعروں سے خود کو الگ رکھا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم کی امریکی صدر پر تنقید

دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹِن ٹروڈو نے بھی امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات تکلیف دہ ہیں۔

جسٹِن ٹروڈو نے کہا کہ ہم کینیڈا میں ایسا نہیں کرتے۔ ہمارے ملک کا تنوع ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹِن ٹروڈو
کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹِن ٹروڈو

’اسے واپس بھیجو اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ‘

واضح رہے کہ بدھ کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کیرولائنا میں ایک ریلی میں شرکت کی تھی جہاں ان کی موجودگی میں مجمعے نے صومالی نژاد خاتون رکنِ کانگریس کے خلاف نعرے لگائے تھے جبکہ ان کو واپس آبائی وطن بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں ہجوم نے نعرے لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’اسے واپس بھیجو اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجمعے کی طرف سے لگائے گئے ان نعروں سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا۔

جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ریلی میں شامل لوگ بہت پُرجوش تھے لیکن وہ مجمعے کی طرف سے لگائے گئے نعروں سے خوش نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کیرولائنا کی ریلی میں شریک ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کیرولائنا کی ریلی میں شریک ہیں

​خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے شمالی کیرولائنا میں ہونے والی ریلی میں بھی چاروں خواتین ارکانِ کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں بائیں بازو کی نظریاتی قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ وہ ہیں جو ہماری قوم کو شیطانی قوت سمجھتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ 2020 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو دیا جانے والا ایک ایک ووٹ امریکہ کی تباہی ثابت ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مجمعے نےصومالی نژاد خاتون رکن اِلہان عمر کے خلاف ’اسے واپس بھیجو‘ کے نعرے لگائے تھے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے 2016 میں بھی ان کی مخالف امیدوار ہیلری کلنٹن کے بارے میں ’اسے جیل میں بند کرو‘ کے نعرے لگائے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کچھ رِی پبلکن ارکان صدر ٹرمپ کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ کسی کشیدگی سے بچا جا سکے لیکن صدر ٹرمپ شاید اس صورتحال کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لیے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کےصدارتی انتخابات میں بھی اپنی جیت کے لیے یہی طریقہ کار اپنایا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کے انتخابات میں 57 فی صد ووٹ سفید فام افراد کے حاصل کیے تھے جب کہ ان کی مخالف امیدوار ہیلری کو سفید فام افراد کے 37 فی صد ووٹ ملے تھے۔

امید یہ کی جا رہی ہے کہ 2020 کے انتخابات میں 70 فی صد ووٹ سفید فام افراد کے ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG