رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی شام میں داعش کے خلاف نئی کارروائی، درجنوں جنگجو گرفتار


شمالی شام میں داعش کے خلاف ایک نئی مہم شروع کی گئی ہے، جس میں داعش کے درجنوں جنگجووں کو پکڑا گیا ہے۔

امریکہ کے زیر قیادت اتحادی فورسز نے دہشت گرد گروپ داعش کی باقیات کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی فوجی مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت انھیں خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر پکڑا جا رہا ہے۔

اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل میےلیس کیگینز نے پیر کے دن اپنے ایک ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ 60 سے زیادہ داعش کے دہشت گردوں کو پکڑا جا چکا ہے۔ یہ چھاپے شامی ڈیموکریٹک فورسز مار رہی ہیں، جن کی سرپرستی امریکی اتحادی دستے کر رہے ہیں۔ شمالی شام کے دیر الزور اور ہسکہ علاقوں میں ان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو تلاش کر کے یہ کارروائی کی جارہی ہے۔

سن 2019ء میں داعش کو عراق اور شام کے علاقوں میں شکست کے بعد پسپائی اختیار کرنی پڑی تھی۔ اس کے بعد سے اس گروپ نے عراق کی سرحد کے آس پاس شہریوں اور شامی ڈیموکریٹک فورسز پر اکا دکا حملے جاری رکھے۔

اس کارروائی میں تقریباً چھ ہزار شامی ڈیموکریٹک فورسز کے فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مہم جمعہ سے شروع کی گئی ہے اور اس میں عراق کی سیکورٹی فورسز بھی حصہ لے رہی ہیں۔

شمالی دیر الزور میں شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر ریشو قوبانی نے پیر کے روز وی اے او کو بتایا کہ ہمیں داعش کے بارے میں اطلاعات ملی تھیں کہ وہ ان علاقوں میں دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں اور صف بندی کر رہے ہیں۔ یہ سرنگیں کھود رہے ہیں اور ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔ ہم نے تین دن پہلے یہ مہم شروع کی تھی اور یہ دس دن جاری رہے گی۔

مقامی فوجی حکام کا خیال ہے کہ عمومی طور پر ان کے دوبارہ سر اٹھانے کی وجہ یہاں پر موجود سیکورٹی خلا ہے، جو کرونا وائرس کے پھیلنے سے پیدا ہوا ہے۔ شمالی شام میں کرونا وائرس کی وجہ لاک ڈاون نافذ ہے۔

وی اے او کے ساتھ اپنے تازہ انٹرویو میں کرنل میےلیس کیگینز نے بتایا کہ اتحادی افواج اس مہم شامی ڈیموکریٹک فورسز کی مدد جاری رکھیں گی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پورے شامی صحرا میں یہ عسکریت پسند گروپ متحرک ہے اور یہ اس علاقے کے لیے بڑا خطر بھی بن سکتا ہے۔ بادیہ نامی اس علاقے میں بہت کم آبادی ہے اور اس لیے داعش کے عسکریت پسندوں کو چھپنے اور ہتھیاروں کو جمع کرنے کے مواقع فراہم ہو جاتے ہیں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG