رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی نے شام کا تیسرا لڑاکا طیارہ مار گرایا


سراقب کا شامی شہر

ترکی نے منگل کو شام کی فضائی حدود میں اس کا ایک اور لڑاکا طیارہ مار گرایا، اتوار سے اب تک یہ شام کا تیسرا طیارہ ہے جسے ترکی نے تباہ کیا ہے۔

شام کے شمالی مشرقی علاقے میں ترکی اور بشارالاسد کی افواج آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اس علاقے کا کچھ علاقہ اب بھی باغیوں کے قبضے میں ہے اور سرکاری افواج کے ساتھ ان کی شدید لڑائی جاری ہے۔ ترکی باغیوں کا حامی ہے جبکہ بشار الاسد کو روس کی حمایت حاصل ہے۔

دسمبر سے اب تک ترک سرحد سے ملحقہ اس علاقے میں 10 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین جمع ہیں۔ شام کے صوبہ ادلب میں جاری لڑائی کی وجہ سے بہت سارے افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جن کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ نو برس سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں بدترین نوعیت کے انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

ترکی کے جنوبی علاقے کے دورے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے معاون سکریٹری جنرل برائے انسانی امور نے بتایا کہ ’’بڑے پیمانے پر امدادی کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ ہر اعتبار سے بہت بڑے امدادی کام کی ضرورت ہے، جس کے لیے بہت پیسہ درکار ہے۔‘‘

شام میں سراقب کے ایک قصبے کے شمال میں شدید لڑائی جاری ہے جس پر پیر کو سرکاری فوج نے دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔ اس مقام سے ادلب شہر اور حلب تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں یہ علاقہ مختلف فریقوں کے قبضے میں جاتا رہا ہے۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج اس وقت قصبے کی تلاشی لے رہی ہے اور مضافات میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے نمائندے نے بتایا کہ شامی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے ترکی علاقے میں بھاری گولہ باری کررہا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پشت پناہی والی لبنانی اور عراقی ملیشیا کو دور دراز کے علاقوں سے لایا گیا ہے اور وہ شامی حکومت کی مدد کررہی ہیں تاکہ قصبے پر دھاوا بولا جاسکے لیکن ان کی دو روز سے جاری کوششیں ناکام ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG