رسائی کے لنکس

logo-print

ہیوسٹن میں فائرنگ سے پاکستانی ڈاکٹر زخمی


کونسل آن امریکن اسلامک رلیشنز (کیئر) کے ہوسٹن شاخ کے انتظامی سربراہ، مصطفیٰ کیرول کے مطابق، ’ تیس برس کے ڈاکٹر ارسلان تجمل، جو امراض چشم کے اسپیشلسٹ ہیں، اُن کی سرجری کی گئی ہے، اور امید ہے کہ وہ صحتیاب ہو جائیں گے‘‘

پولیس کے مطابق، ہوسٹن میں اتوار کے روز نماز فجر ادا کرنے کے لیے مسجد جانے والے ایک مسلمان ڈاکٹر پر تین نامعلوم افراد نے حملہ کیا، جو گولی لگنے کے باعث زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر ارسلان تجمل پر ہونے والے حملے کی وجوہ واضح نہیں۔ تاہم، ایک روز قبل فلوریڈا مسجد کے باہر ایک اور مسلمان کو مبینہ طور پر زد و کوب کیا گیا۔

کونسل آن امریکن اسلامک رلیشنز (کیئر) کے ہوسٹن شاخ کے انتظامی سربراہ، مصطفیٰ کیرول کے مطابق، ’ تیس برس کے ڈاکٹر ارسلان تجمل، جو امراض چشم کے اسپیشلسٹ ہیں، اُن کی سرجری کی گئی ہے، اور امید ہے کہ وہ صحتیاب ہو جائیں گے‘‘۔

ہوسٹن کے پولیس ایل کار، مظفر صدیقی، جو شہر کی مسلم کمیونٹی کے رابطے کے افسر ہیں، بتایا ہے کہ ڈرکٹر ارسلان تجمل زخمی حالت مین ہیں، جنھیں اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرا دیا گیا ہے‘‘۔

اپنی کار پارک کرکے، نماز فجر کے لیے وہ مدرسہ اسلامیہ کی مسجد جارہے تھے، جب ایک بلاک کے فاصلے پر انھیں نشانہ بنایا گیا اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ بجے صبح اُنھیں دو گولیاں لگیں۔

مصطفیٰ کیرول نے بتایا کہ ’’یہ عجب واقعہ ہے۔ یہ مسجد ایک غریب علاقے میں واقع ہے، اور حملہ آور نقاب پہنے ہوئے تھے۔‘‘

تاہم، مظفر صدیقی نے کہا ہے کہ چھان بین سے قبل کسی نتیجے تک پہنچا درست نہ ہوگا،حالانکہ مسلمان برادری میں تشویش پائی جاتی ہے کہ نفرت پر مبنی واقع ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG