رسائی کے لنکس

logo-print

یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کو عبابا اور شلوار قمیض پہننے کی ہدایت


مظفرآباد میں قائم یونیورسٹی، فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مرکزی یونیورسٹی کی طرف سے طالب علموں کو اسلامی اقدار کے تحت لباس پہننےکی ہدایت کی گئی ہے۔

جمعہ کے روز یونیورسٹی کے شعبہ کیمسٹری کی طرف سے طالب علموں کے لیے جاری کیے ایک تحریری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ طالبات کے لیے عبایا اور سر کا ڈھنپا ہونا اور طلبہ کے کیے شلوار قمیص یا ڈریس پینٹ زیب تن ہونی چاہیے۔

مظفرآباد میں قائم پاکستانی کشمیر کی مرکزی یونیورسٹی کے ترجمان طاہر عظیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یونیورسٹی کی طرف سے اسٹوڈنٹس کو ایسا لباس زیب تن کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جو علاقائی ثقافت سے اہم آہنگ ہو۔

لیکن یہ پابندی لازمی نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر یونیورستی کے اس اقدام کی حمایت اور مخالفت میں تبصرے کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کرنل ریٹائرڈ وقار نور کی طرف سے بھی ضلع جہلم ویلی کے قصبے چناری میں واقع ایک سرکاری کالج کے درورے کے موقع پر جینز کی پینٹ پہننے پر ایک لیکچرر کی سرزنش کی گئی تھی۔

لکچرر اظہر عباس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کو وزیر موصوف کی طرف سے میرے لباس پر طنزکیا گیا اور میری طرف سے اس استفسار پر کہ جینز پہننے سے میرے کام میں کیا حرج ہوتاہے؟ تو مجھے کالج کی میٹنگ سے باہر نکال دیا گیا اور مجھے دفتر آنے کا کہا گیا۔

وزیر برائے اعلیٰ تعلیم سے ان کا نقطہ نظر معلوم کرنے کے لیے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں کال نہیں سنی۔

اس سے قبل بلوچستان یونیورسٹی کی طرف سے بھی طلبہ کو نئے تعلیمی سال کے آغاز سے اسلامی لباس زیب تن کر کے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے کی ہدایت کئی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG