رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان یونیورسٹی: طلبہ کو ہراساں کرنے کے معاملے پر وائس چانسلر مستعفی


فائل فوٹو

بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ کو ہراساں کیے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وائس چانسلر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں جبکہ گورنر نے قائم مقام وائس چانسلر کا تقرر کر دیا ہے۔

اتوار کو گورنر ہاﺅس کے ایک ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کی مستعفی ہونے کی درخواست قبول کر لی گئی ہے۔

وائس چانسلر کے مستعفی ہونے کی وجہ یونیورسٹی میں حالیہ دنوں میں طلبہ کو ہراساں کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والے اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گورنر امان اللہ خان یاسین زئی نے اُن کو اپنے فرائض سے سبک دوش کر دیا ہے تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جاسکے۔

خیال رہے کہ صوبائی گورنر سرکاری جامعات کے چانسلرز ہوتے ہیں۔

گورنر اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے چانسلر امان اللہ خان یاسین زئی نے پروفیسر ڈاکٹر محمد انور پانیزئی کو قائم مقام وائس چانسلر مقر رکیا ہے جو آئندہ احکامات تک وائس چانسلر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

قائم مقام وائس چانسلر کی تقرری کے نو ٹیفیکشن پر گورنر ہاﺅس کے جے پی سیکریٹری کے دستخط ہیں۔

خیال رہے کہ جامعہ بلوچستان کے حوالے سے ایک اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ جس میں طلبہ کو ہراساں کرنے کے لیے ادارے کے اندر مختلف مقامات پر خفیہ کیمرے لگائے گئے تھے۔ ان کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے ہراساں کرنے کا معاملہ رواں ہفتے ہی سامنے آیا تھا.

طلبہ کو ہراساں کیے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سیل نے اس کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعے کے خلاف طلبہ کی جانب سے بھی شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ طلبہ نے کلاسز کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے احاطے میں احتجاجی دھرنا بھی دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس واقعے میں ملوث کسی استاد یا انتظامیہ کے کسی افسر کو گرفتار یا معطل کرنے کی یونیورسٹی کی انتظامیہ تردید کر تی رہی ہے ۔

جامعہ کے ایک شعبے کے پی ایچ ڈی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی معطلی کے حوالے سے خبریں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں۔

تین روز قبل کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ سے منسلک بعض عناصر یونیورسٹی کی نگرانی کے لیے بنائی گئی ویڈیوز کو طلبہ کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق ان میں 'خفیہ' کیمروں سے بنائی گئی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔

چیئرمین ایچ آر سی پی ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ خفیہ کیمرے لگا کر طلبہ کی جرائم پیشہ افراد کی طرح نگرانی سخت قابل اعتراض بات ہے۔ پیشگی اطلاع کے بغیر کسی کی بھی سرگرمی کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کا عمل جمہوری روایات اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

ایچ آر سی پی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ کوئٹہ کا دورہ کرنے والے فیکٹ فائنڈنگ وفد کو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی کے احاطے میں تشویش ناک حد تک کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ یہ کام سیکیورٹی کے نام پر کیا جا رہا ہے مگر حالیہ شکایات سے پتا چلتا ہے کہ یہ نظام طلبہ کو ہراساں کرنے کا آسان ترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ جس کا خاص نشانہ طالبات بنتی ہیں۔

دوسری جانب یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جامعہ کی طالبات کو ہراساں کیے جانے سے متعلق پہلے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ صوبائی حکومت کو اس سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG