رسائی کے لنکس

عمران خان کا ’حکومت ہٹاؤ، پاکستان بچاؤ‘ تحریک چلانے کا اعلان


عمران خان کا ’حکومت ہٹاؤ، پاکستان بچاؤ‘ تحریک چلانے کا اعلان

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا ہےکہ ڈرون حملوں نے پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھا دیا ہے۔ صرف 2010ء میں پاکستان میں 500بم دھماکے ہوئے۔ اُن کے بقول، ملک میں وہ جگہ جہاں پر کبھی طالبان نہیں تھے اب وہاں دہشت گرد بنتے جارہےہیں

کراچی میں بندرگاہ کے قریب نیٹی جیٹی کے پُل پر عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف کے زیرِ اہتمام ڈرون حملوں کے خلاف دو روزہ احتجاجی دھرنہ دیا گیا، جس کے آخری روز عمران خان نے اپنے خطاب میں اپنی جماعت کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’حکومت ہٹاؤ، پاکستان بچاؤ‘ تحریک چلائیں گے اور جب بھی ڈرون حملہ ہوگا اُن کی جماعت دھرنہ دے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نےحال ہی میں ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد منظور کی، لیکن اُس کے فوراً بعد پاکستان میں ڈرون حملہ ہوا جس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکومت اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اِن حملوں نے پاکستان میں دہشت گردی کو بڑھا دیا ہے۔ صرف 2010ء میں پاکستان میں 500بم دھماکے ہوئے۔ اُن کے بقول، ملک میں وہ جگہ جہاں پر کبھی طالبان نہیں تھے اب وہاں دہشت گرد بنتے جارہےہیں۔

اُنھوں نے اپنی تقریر میں اِس بات کو بھی واضح کیا کہ وہ امریکہ کے خلاف نہیں ہیں بلکہ امریکی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ امریکہ جس طرح اپنے ملک میں اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کا خیال رکھتا ہے، امریکہ کو چاہیئے کہ دوسرے ملک، بالخصوص پاکستان، میں بھی پاکستانیوں کے انسانی حقوق کا خیال رکھیں۔اُن کے بقول، 34000پاکستان ہلاک ہوچکے ہیں، اربوں ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہو چکا ہے، وزیرستان میں چار لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اُنھوں نے وِکی لیکس کے انکشافات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت اورملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اداروں کی ساکھ کو یہ انکشافات نقصان پہنچا رہے ہیں۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں پاکستان میں لاپتا افراد کے مسئلے پر بھی بات کی۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کی پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے باربار نشان دہی کی ہے، خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے۔

دھرنوں میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔ جس میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے علاوہ اہلیانِ کراچی نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ہے جس میں خواتین خاص طور پر نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔

کسی ناخوشگوار واقع سے بچنے کے لیے، حکومت نے سکیورٹی ہائی الرٹ کا اعلان کیا تھا ۔

XS
SM
MD
LG