رسائی کے لنکس

پاکستان سفارتی کشیدگی کا خواہاں نہیں


چین کے وزیراعظم نے دسمبر 2010ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا (فائل فوٹو)

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی اسٹریٹیجک پارٹنر شپ بہت مضبوط ہے تاہم اُنھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جوہری شعبے میں دونوں ملکوں کے تعاون کا مقصد توانائی کے بحران سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرنا ہے اور یہ سول جوہری تعاون ہے۔

چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات کو وسعت دینا اُن کے ملک کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ اس کا مقصد امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط کو کم کرنا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا دورہ چین پہلے سے طے شدہ تھا لیکن بلاشبہ چینی رہنماؤں سے اُن کی ملاقاتوں میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال زیر بحث آئے گی۔

’’ہم کسی قسم کے تصادم یا تناؤ کے لیے کام نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بھی ہمارے برس ہا برس پر محیط تعلقات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہمیں مجموعی کوششیں کرنی چاہیئں اور اس سلسلے میں اقوام کے درمیان اتحاد میں کسی قسم کی دراڑ نہیں آنی چاہیئے کیوں کہ بن لادن تو مارا گیا لیکن دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زیادہ بہتر حکمت عملی، یکسوئی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جائے۔‘‘

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی اسٹریٹیجک پارٹنر شپ بہت مضبوط ہے تاہم اُنھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جوہری شعبے میں دونوں ملکوں کے تعاون کا مقصد توانائی کے بحران سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرنا ہے اور یہ سول جوہری تعاون ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں پاک چین تعاون ’’ہماری اسٹریٹیجک پارٹنر شپ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ اُسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن کے بعد چینی حکومت نے پاکستان کے موقف کی تائید کی جس پر اُن کا ملک چین کا شکر گزار ہے۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ چین نے یہ اصولی موقف بھی اختیار کیا کہ دہشت گردی کی جنگ بھی ضروری ہے اور ہم سب پر لازم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو ایک بین الاقوامی اصول ہے، بین الاقوامی قانون ہے کہ آزادی، خودمختاری اور قومی سا لمیت جو ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے۔‘‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ پچھلے 10 سالوں میں پاکستان کا امریکہ سے ملنے والی اربوں ڈالر کی فوجی اور غیر فوجی امداد پر انحصار اس قدر بڑھ گیا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے واشنگٹن کے ساتھ روابط کم کرنے کے امکانات بہت محدود ہیں۔

XS
SM
MD
LG