رسائی کے لنکس

logo-print

جعلی ادویات کے خلاف ترمیمی بل کی منظوری پر ہڑتالیں و مظاہرے


کراچی کی اولڈ سٹی ایریا میں واقع ہول سیل مارکیٹ دن بھر بند رہی اور جگہ جگہ سیاہ رنگ کے احتجاجی اور ہڑتالی بینر آویزاں کر دیئے گئے۔ احتجاج اس ایکٹ کے خلاف کیا جا رہا ہے جو پنجاب اسمبلی نے 8 فروری کو ’ڈرگ ایکٹ 1976‘ کے نام سے بل کی صورت میں منظور کیا تھا

لاہور میں پیر کی شام ہونے والے دھماکے سے پہلے دن بھر شہر میں ’ڈرگ ایکٹ‘ کے خلاف احتجاج جاری رہا۔ ابتدا لاہور سے ہوئی۔ لیکن، بڑھتے بڑھتے یہ ملتان، گوجرنوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، بھکر سے ہوتا ہوا کراچی تک پہنچ گیا۔

مذکورہ تمام بڑے شہروں میں ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے معاملے پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ ملک بھر کے میڈیکل اسٹورز کو تالے لگ گئے۔

کراچی کی اولڈ سٹی ایریا میں واقع ہول سیل مارکیٹ دن بھر بند رہی اور جگہ جگہ سیاہ رنگ کے احتجاجی اور ہڑتالی بینر آویزاں کر دیئے گئے۔

احتجاج اس ایکٹ کے خلاف کیا جا رہا ہے جو پنجاب اسمبلی نے8 فروری کو ’ڈرگ ایکٹ 1976‘ کے نام سے بل کی صورت میں منظور کیا تھا۔ اس کےتحت غیر معیاری دوا سازی پر 6 ماہ سے 5 سال تک قید اور ایک کروڑ سے 5 کروڑ روپے تک جرمانہ رکھا گیا ہے جبکہ میڈیکل اسٹورز پر کوالیفائیڈ فرد کے موجود نہ ہونے پر 30 دن سے 5 سال تک قید اور 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپےتک جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔

ادویات کے کاروبار سے وابستہ افراد اور ملک بھر میں موجود تنظیموں نے اس کے خلاف پیر کو مختلف شہروں میں احتجاج اور ہڑتال کی کال دی تھی۔ اسی احتجاج کے سلسلے میں لاہور میں پریس کلب سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی گئی جو شام کے وقت دہشت گردی کا نشانہ بن گئی اور جس میں تقریباً ایک درجن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ پنجاب کا حالیہ ترمیمی ڈرگ ایکٹ ’کالا قانون‘ ہے۔ اس لئے، ہم اس کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔

احتجاج کرنے والے مظاہرین نے اس بل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سخت سزاؤں والا ترمیمی بل واپس لیا جائے اور جب تک یہ واپس نہیں لیا جائے گا میڈیکل اسٹورز نہیں کھولیں گے۔

احتجاج کے سبب مال روڈ، ڈیوس روڈ، ایجرٹن روڈ، ایمپریس روڈ، شاہراہ فاطمہ جناح اور دیگر ملحقہ سڑکوں پر دن بھر ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔ جبکہ عوام ادویات کی خریداری کے لئے پریشان پھرتی رہی۔

یہی صورتحال کراچی ہول سیل مارکیٹ میں بھی دیکھی گئی ۔ تمام بڑے میڈیکل اسٹور اور ڈسٹری بیوٹرز کے دفاتر بند رہے۔ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال میڈیکل کا اعلان کیا گیا تھا۔

کراچی ہول سیل مارکیٹ اینڈ ڈسٹری بیوشن کے رہنما سعید اللہ والا نے پیر کی صبح ہی اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ آج سندھ کے بارے میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔

حکومت پنجاب کے اقدامات کے خلاف دواؤں کے کاروبار سے وابستہ تنظیمیں آج ہڑتال کے فیصلے پر قائم ہیں۔

XS
SM
MD
LG