رسائی کے لنکس

logo-print

منشیات کے عادی افراد کی تعداد جاننے کے لیے سروے کی تیاری


منشیات کے عادی افراد کی تعداد جاننے کے لیے سروے کی تیاری

پاکستان میں پوست کی کاشت کی حوصلہ شکنی اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے عالمی تنظیموں کے تعاون سے سرکاری سطح پر طویل عرصے سے کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہمسایہ ملک افغانستان ہے جہاں اب بھی دنیا میں سب سےزیادہ رقبے پر پوست کاشت کی جاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی منشیات کا ایک بڑا حصہ بیرونی دنیا کو پاکستان کے راستے سمگل کیا جا رہا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی منشیات سے متعلق سالانہ رپورٹ کے اجرا ء کے موقع پر وزارت انسداد منشیات کے سیکرٹری افتخار احمد نے بتایا کہ پاکستان کے راستے اسمگل ہونے والی افغان منشیات ملک میں نشے کےعادی افراد کی تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ ہے ۔ ”افغانستان میں گذشتہ سال تیار ہونے والی چار سو ٹن ہیروٴین میں سے تقریباً ایک سوساٹھ ٹن پاکستان میں داخل ہوئی جس میں سے کچھ یہاں پر استعمال ہوئی اور کچھ آگے دنیا کے مختلف ملکوں میں نکل گئی۔“

وزارت انسداد منشیات کے سیکرٹری افتخار احمد
وزارت انسداد منشیات کے سیکرٹری افتخار احمد

وفاقی سیکرٹری افتخار احمد نے کہا کہ وہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس وقت ملک میں نشے کے عادی افراد کی تعداد کتنی ہے البتہ ان کے بقول چار سال قبل اقوام متحدہ کے تعاون سے کیے گئے ایک سرکاری سروے کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی تعداد لگ بھگ پچاس لاکھ تھی ۔ اُنھوں نے بتایا کہ صحیح اور تازہ اعداد وشمار حاصل کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے بڑے پیمانے پر ایک نیا سروے کرانے کافیصلہ کیا ہے اور ملک میں جاری مردم شماری کی مہم کے اختتام پر رواں سال کے آخر میں اس سروے کا آغاز ہوگا۔

افتخار احمد نے کہا کہ نئے سروے کی بنیاد پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج کی سہولتیں ناکافی ہیں تاہم حکومت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر نشے کے عادی افراد کے لیے زیادہ بحالی مراکز قائم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے ۔

تقریب میں موجود اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات اور جرائم کے پاکستان میں سربراہ جیرمی ڈیگلیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ادارہ نئے سروے میں حکومت کی معاونت کرے گا اور اس کے نتائج موثر منصوبہ بندی میں مدد گار ثابت ہو ں گے ۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے ان خدشات کی تائید کی کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو ا ہے کیوں کہ اُن کے بقول منشیات کے عادی افراد کے دستیاب سرکاری اعدادوشمار خاصے پرانے ہیں اور یہ اُس وقت جمع کی گئے تھے جب اتنی بڑی مقدار میں افغانستان سے ہیروٴین پاکستان کے راستے اسمگل نہیں کی جارہی تھی۔

افتخار احمد نے بتایا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں منشیات کی کھیپ پکڑی ہیں اور اس عمل کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت 29 سرکاری ادارے انسداد منشیات فورس کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG