رسائی کے لنکس

logo-print

دہری شہریت کا الزام: چار نو منتخب سینیٹرز کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم


A security official stands guard outside the Supreme Court in Pakistan where PM Gilani was scheduled...

سماعت کے التوا سے قبل نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ 12 مارچ کو نومنتخب ارکان کی حلف برادری ہونا ہے لہذا معاملے کی سماعت جلد مکمل کرلی جائے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے چار نو منتخب سینیٹرز کو عدالت میں غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کا اجرا روک دیا ہے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں ایوانِ بالا کے نو منتخب ارکان کی مبینہ دہری شہریت کے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا چاروں سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہو گا۔

دوہری شہریت کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے نومنتخب سینیٹر چوہدری محمد سرور نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے برطانوی شہریت 2013ء میں ہی ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی تھی اور اب وہ مکمل طور پر پاکستانی ہیں۔

چوہدری سرور نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے دہری شہریت سے متعلق اپنا حلف نامہ الیکشن کمیشن کو بھی جمع کرا دیا تھا۔

اس پر عدالت نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ میں بھی حلف دیں۔ ہمیں مکمل یقین دہانی چاہیے کہ آپ دوبارہ غیر ملکی شہریت نہیں لیں گے۔

کیس کی سماعت کے دوران ایوانِ بالا کی نو منتخب خاتوں رکن نزہت صادق نے بھی دہری شہریت چھوڑنے سے متعلق اپنا سرٹیفیکٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ان کے شوہر اب بھی دوسرے ملک کے شہری ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی آدھی وفاداری وہیں ہے۔

نزہت صادق نے چیف جسٹس سے کہا کہ خدا جانتا ہے کہ پوری وفاداری یہیں کی ہے۔

اس پر چیف جستس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دیکھیں کہ کہیں یہ ارکان دوبارہ تو شہریت نہیں لے سکتے۔ اس موقع پر بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دہری شہریت ختم کرنے والے سرٹیفکیٹ پر سفارت خانے کی مہر چاہیے۔

کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کی رکن عندلیب عباس نے عدالت کو بتایا کہ نزہت صادق نے شہریت 2012ء میں چھوڑی جبکہ نومنتخب سینیٹر سعدیہ عباسی نے حال ہی میں چھوڑی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب کاغذاتِ نامزدگی جمع ہوئے تو کیا سعدیہ عباسی پاکستانی شہری نہیں تھیں؟

سعدیہ عباسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس وقت امریکی شہریت چھوڑنے کے لیے اپلائی کردیا تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ "لگتا ہے الیکشن سے کچھ دن پہلے تک سعدیہ غیر ملکی شہریت کے حلف میں تھیں۔ فائدے اٹھانے کے لیے وہاں کی شہریت رکھی۔ جب یہاں موج لگی تو یہاں آ گئے۔ کیا یہ پاکستان کے نمائندے ہیں؟"

چیف جسٹس نے ایوانِ بالا کے نو منتخب ارکان چوہدری سرور، نزہت صادق، سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کے سینیٹ کے رکن کے طور پر کامیابی کا نوٹیفیکیشن روکتے ہوئے سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔

سماعت کے التوا سے قبل نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ 12 مارچ کو نومنتخب ارکان کی حلف برادری ہونا ہے لہذا معاملے کی سماعت جلد مکمل کرلی جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا تو ہی حلف برداری ہوگی۔

تاہم بعد ازاں ایک دوسرے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ نو منتخب سینیٹرز کی حلف برداری کے پیشِ نظر دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس کی اگلی سماعت 10 مارچ کو ہوگی۔

تین مارچ کو ہونے والے ایوانِ بالا کے انتخاب میں چوہدی محمد سرور پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر جبکہ ہارون اختر، نزہت صادق اور سعدیہ عباسی مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے۔ تمام نومنتخب ارکان کو 12 مارچ 2018ء کو سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانا ہے۔

سینیٹ میں کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس سادہ اکثریت نہیں ہے اور اس وقت ایوان کی دو بڑی جماعتیں - حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) - چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے دیگر چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان سے رابطوں میں مصروف ہیں۔

اس صورتِ حال میں تین نومنتخب ارکان کی حلف برداری نہ ہونے سے ن لیگ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں مشکل سے دوچار ہوسکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG