رسائی کے لنکس

logo-print

ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد


ملی مسلم لیگ کے رہنما پریس کانفرنس کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

اس فیصلے کے بعد ملی مسلم لیگ بطور سیاسی جماعت 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حافظ محمد سعید کی تنظیم 'جماعت الدعوۃ' کے سیاسی ونگ 'ملی مسلم لیگ' کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اس فیصلے کے بعد ملی مسلم لیگ بطور سیاسی جماعت 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی۔

لیکن اس جماعت کے درجنوں حمایت یافتہ امیدواران آزاد حیثیت یا پھر کئی سال پہلے رجسٹرڈ ہونے والی جماعت 'اللہ اکبر تحریک' کے نام سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 'جماعت الدعوۃ' کے بعض رہنماؤں نے ملی مسلم لیگ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دی تھی جسے کمیشن نے مسترد کر دیا تھا۔

اس معاملے پر ملی مسلم لیگ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالتِ عالیہ نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن نہ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے کمیشن کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے ضروری کارروائی کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جس کا اعلان بدھ کو کیا گیا۔

تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو سیاسی دھارے میں شامل نہیں ہونے دینا چاہیے۔

"ایسی تنظیمیں جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے دہشت گردی سے رہا ہے، اُن کو مرکزی دھارے میں آنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ ماضی میں ہوتا یہ رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے اگر کسی تنظیم کو کالعدم قرار دیا ہے تو وہ گروپ نئی تنظیم کے طور پر سامنے آیا ہے۔"

اُنھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے دور رس نتائج ہوں گے۔

"بیرونی دباؤ تو ہمیشہ رہا ہے کہ ایسی تنظیموں کو ابھرنے کی اجازت نہ دیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔۔۔ لیکن نئی بات یہ ہے کہ میرے خیال میں ہماری جو قومی سلامتی کی پالیسی ہے، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کے اداروں نے کچھ شواہد رکھے ہوں گے جن کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے۔"

رواں سال امریکی محکمہٴ خارجہ نے دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل اِی ٹی) سے متعلق اپنے اعلان میں ترمیم کرتے ہوئے اِس میں ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر (ٹی اے جے کے) کو بھی شامل کیا تھا۔

جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کا شمار ان تنظیموں میں ہوتا ہے جن پر اقوامِ متحدہ کے علاوہ امریکہ کی طرف سے بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

لشکر طیبہ اور حافظ سعید کو امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔

بھارت اور امریکہ انھیں 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے منصوبہ سازوں میں شمار کرتا ہے لیکن حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG