رسائی کے لنکس

ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت چھ نشسوں کا ایک پائپر سیسنا جہاز موجود ہے جب کہ 14 نشستوں کے سیسنا گرینڈ کارواں کی خريد کے لیے فنڈز اکھٹے کیے جا چکے ہیں ۔ اس طیارے کو ہنگامی صورت حال میں سڑک پر بھی اتارا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ متعدد چھوٹے بڑے شہر اور علاقے اس کی زد میں آتے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ زخمیوں کو بھی اسپتال پہنچنے میں بسا اوقات بہت دیر ہو جاتی ہے، اس کے باوجود ملک میں ابھی تک کسی بھی فلاحی ادارے کے پاس ائیر ایمبولینس سروس نہیں۔

پاکستان کے سب سے مشہور فلاحی ادارے کے سربراہ فیصل ایدھی نے وائس آف امریکہ سے جمعہ کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ان کا ادارہ اگلے ہفتے سے ’ایدھی ائیر ایمبولیس سروس‘ دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے۔

فیصل ایدھی نے بتایا ’’پاکستان میں حالیہ مہینوں میں سہون اور شاہ نورانی، بلوچستان جیسے دور افتاد علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں انسانی جانوں کا نقصان اس لئے زیادہ ہوا کہ وہاں امدادی ٹیموں اور ایمبولینسز کو پہنچنے میں کافی وقت لگا جبکہ زخمیوں کو قریبی شہروں کے اسپتالوں تک پہنچانے کے لئے بھی کوئی ائیر ایمبولینس سروس موجود نہیں تھی لہذا ہم نے اسی وقت یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ ہمیں ’ایدھی ائیرایمبولینس سروس ‘دوبارہ شروع کردینی چاہئے۔ اس دوران ہم نے اپنی تیاریاں جاری رکھیں اور اب ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ اگلے ہفتے سے ایئر ایمبولینس سروس شروع کرسکیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ’ادارے کی جانب سے کیپٹن آصف رضا کی خدمات لی گئی ہیں جن کا ایک فلائنگ ٹیسٹ ہوچکا ہے جبکہ دوسرا ٹیسٹ دو ایک دن میں ہونے والا ہے ۔ اس کے بعد ائر ایمبولینس کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔‘‘

ایک سوال پر فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس وقت دو طیارے موجود ہیں جبکہ وہ جلد ہی امریکہ جا کر مزید دو طیارے خریدنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔

فیصل ایدھی کے مطابق وہ برطانیہ سے خود طیارہ اڑانے کی تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ یہ سال 2001 کی بات ہے جب میں نے انسٹرکٹرکے ساتھ 40 گھنٹے کے فلائنگ آورز اور سولو 2 گھنٹے کے فلائنگ آورز مکمل کئے لیکن لائسنس ابھی جاری ہونا باقی ہی تھا کہ ان کے والد عبدالستار ایدھی نے انہیں پاکستان واپس بلا بھیجا کیوں کہ ایدھی صاحب کو اقوام متحدہ بلایا گیا تھا اور ایدھی صاحب اپنی نمائندگی مجھ سے کرانا چاہتے تھے۔ ایدھی صاحب کے کہنے پر میں پاکستان واپس آ گیا، پھر جانے میں سستی دکھائی اور یوں میرا لائسنس کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ ‘‘

فیصل ایدھی کے بقول آفت زدہ علاقوں سے مریضوں کو ایدھی ائیر ایمبولینس خود اڑا کر اسپتالوں میں منتقل کرنا ان کا خواب تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ تین سال قبل چیف پائلٹ کیپٹن امتیاز کے انتقال کے باعث ائیرایمبولینس سروس بند کرنا پڑی تھی۔ اب کیپٹن آصف رضا کیپٹن امتیاز کی جگہ فلائی کریں گے۔ ہمیں جنرل ایوی ایشن سے اجازت نامے کا انتظار ہے جو امید ہے جلد مل جائے گا اور شاید اگلے ہفتے ہم باقاعدہ ائیر ایمبولینس سروس دوبارہ فعال کر سکیں۔ ‘‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس چھ سیٹوں والا ایک پائپر سیسنا جہاز ہے۔ جہاز کے دونوں انجنوں کو تبدیل کیا گیا ہے کیونکہ پچھلے دونوں انجن اپنی میعاد پوری کر چکے تھے۔ طیارے کو بہتر اور پرواز کے قابل بنانے کے لئے 15 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

فیصل کے بقول وہ چودہ سیٹوں والا سنگل انجن سیسنا گرینڈ کارواں خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لئے چندہ جمع کیا جاچکا ہے۔ ایمرجنسی کی صورتحال میں اس طیارے کو سڑک پر بھی لینڈ کیا جاسکتا ہے۔ طیارے میں چھ سے دس مریضوں کو بیک وقت لے جانے کی گنجائش موجود ہے۔

عبدالستار ایدھی کا یادگاری سکہ جاری
حکومت نے گزشتہ سال عبدالستار ایدھی کی یاد میں ایک سکّہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے عملی جامعہ پہناتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے جمعہ کو ہی عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے کا یادگاری سکّہ جاری کردیا۔ سکّہ تانبے اور نکل سے بنا ہے ۔ قطر 30ملی میٹر اور وزن تیرہ اعشاریہ پانچ صفر گرام ہے۔

سکے پر عبدالستار ایدھی کا سالِ وفات، عرصہ حیات، ان کی تصویر اور یہ عبارت ’عہدِ انسانیت عبدالستار ایدھی‘ درج ہے۔

دلچسپ پہلو
فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ بینک کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ بینک اب تک صرف چار یادگاری سکے جاری کیے ہیں لیکن عوام کی جتنی ڈیمانڈ اس سکے کے لئے ہے وہ پہلے کسی ایسے سکے کے وقت انہوں نے نہیں دیکھی۔ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینک والوں سے ایک ہزار سکے فراہم کرنے کے لئے کہا تھا لیکن ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں بھی صرف ایک سو ہی سکے مل سکے ہیں اور اس کے لئے بھی ان کے بیٹے سعد کو باقاعدہ گھنٹے بھر لائن میں لگنا پڑا جبکہ بینک کی 16شاخوں نے یہ سکے جاری کئے اور سب جگہ دن بھر یہی صورتحال رہی۔ خود بینک کے ملازم لائن میں لگ کر سکے خریدتے دیکھے گئے ۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG