رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کو شکست دینے کے لیے تعلیم کا کردار اہم ہے: سرگرم کارکنان


امدادای کاموں میں سرگرم تنظیم جافرا فاؤنڈیشن کے مطابق داعش نے ایک منشور شائع کیا ہوا ہے جس میں اس بارے میں ہدایات درج ہیں کہ بچوں کو کیسے تعلیم دی جائے۔

شام میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی فضائی کارروائیاں کے ساتھ ساتھ حریف دھڑوں اور سرکاری فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے دوسری طرف ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پائیدار فتح کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس کے پاس اس حوالے سے ایک طویل اور موثر حکمت عملی ہے کہ کون بچوں کو بہتر تعلیم اور خورا ک فراہم کرتا ہے۔

شام کے اندر نوجوانوں کی ترقی اور امدادای کاموں میں سرگرم تنظیم جافرا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر وسیم سبانہ کے مطابق داعش بچوں کی تعلیم کا خصوصی خیال رکھتی ہے اور اسلامی نصاب کے مطابق ان کو صحیح اور غلط سے متعلق وہ تعلیم دیتی ہے جسے وہ صحیح سمجھتی ہے۔

سبانہ نے سکائپ انٹرویو کے ذریعے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ "وہ مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ایک ایسی منفرد سیاسی تنظیم ہیں جو چھ سال کی عمر کے بچوں پر کام کرکے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ انہیں داعش کے خصوصی اسکولوں کے ذریعے اپنے مذہب کے اصولوں کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں"۔

داعش نے ایک منشور شائع کیا ہوا ہے جس میں اس بارے میں ہدایات درج ہیں کہ بچوں کو کیسے تعلیم دی جائے۔

عسکریت پسندوں نے آرٹ، موسیقی، تاریخ، جغرافیہ، فلسفہ، سماجیات اور نفسیات کی کلاسوں کو ختم کر دیا ہے۔ اساتذہ ان سوالوں کو نکال دیں گے جو قرض دینے، جمہوریت اور انتخاب سے متعلق ہیں۔ حیاتیات کے اساتذہ ارتقا کے بارے میں نہیں پڑھائیں گے۔

اس منشور کے مطابق داعش کے تحت لڑکیوں کو صرف 5 سے 15 سال کی عمر تک تعلیم دی جائے گی جس کا محور اسلامی قانون اور بچوں کی پرورش ہو گا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان لڑکوں کو جنہیں داعش کے لیے لڑنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے انہیں قتل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

سبانہ کا کہنا ہے کہ داعش کا طریقہ کار بڑا موثر ہے۔ "یہ اچھی طرح کام کر رہا ہے۔ ایک سال کے بعد آپ ان کے ( بچوں کے) رویوں میں بڑی تبدیلی دیکھتے ہیں۔ زندگی کو کس طرح دیکھتے ہیں وہ دوسرے کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ وہ زیادہ انتہاپسند ہو گئے ہیں"۔

تاہم اردن میں مقیم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسف' کی ترجمان جولیٹ توما نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شام کے اندر بچوں کے " ذہنوں کو خصوصی طور پر ان کی تشدد کے لئے حوصلہ افزائی اور اسلحہ اٹھانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے یا انہیں اس تنازع میں لڑنے کے لئے مسلح گروپوں میں بھرتی کیا جارہے"۔

ایک غیر سرکاری تنظیم "وار چائلڈ" سے وابستہ سمانتھا نٹ کا کہنا ہے کہ جب تک تمام فریق اپنے نظریے کے فروغ کے لئے تعلیم اور مذہب کو استعمال کرتے رہیں گے تو"بچے اس گندے کھیل میں مہروں کے طور پر استعمال ہوتے رہیں گے"۔

سمانتھا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ " بچوں کو اس کے برعکس بیانیہ دینے کی ضرورت ہے جس کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ طویل مدت میں تصادم کا خطرہ کم ہو جائے گا"۔

سبانہ نے امریکہ کی قیادت میں اتحاد کی داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کے طریقہ کار پر تنقید کی ہے۔ "داعش سے لڑنا معاشرے میں انتہا پسندی کے نظریے سے لڑنا ہے اور اس کے لئے آ پ کو بم برسانے کی ضرورت نہیں ہے"۔

اردن میں یونیسف کی ترجمان جولیٹ کے مطابق 27 لاکھ شامی بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ان میں سے سات لاکھ وہ ہیں جو ہمسایہ ممالک میں مہاجر کیمپوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔

جولیٹ کا کہنا ہے کہ عراق کو بھی اس طرح کے بحران کا سامنا ہے۔ داعش کی طرف سے ایک وسیع علاقے اور شہروں پر قبضے کے بعد عراق میں لاکھو ں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑے۔ جولیٹ کے مطابق شام اور عراق کی لڑائی کا اثر اردن، لبنان، مصر اور ترکی پر بھی ہورہا ہے۔ یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق اس خطے میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں امداد کی ضرورت ہے جب کی ایک سال قبل ایسی صورت حال نہیں تھی۔

غیر سرکاری تنظیم 'وار چائیلڈ ' کی سمانتھا کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ کے لئے طویل المدت سوچ کی ضرورت ہے۔ " ہمیں طویل المدت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہمیں تین سے چھ ماہ کی بجائے پانچ سے دس سال کی مدت کے منصوبے بنانے ہوں گے"۔

XS
SM
MD
LG