رسائی کے لنکس

تصویر کہانی: دریائے سندھ گندگی کے جوہڑ میں تبدیل


صرف صوبہ سندھ ہی نہیں پورا ملک پانی کے بحران میں مبتلا ہے۔ 'ارسا' نے خبر دار کیا ہے کہ پانی کی موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو آئندہ فصلوں کو بھی پانی کی کمی کا خدشہ لاحق ہوگا۔

پاکستان ’ماحولیاتی تبدیلی ‘ سے متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پانی کے بحران کی صورت میں نمایاں ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ صوبے کا سب سے اہم دریا ہوا کرتا تھا مگر آج یہ دریا خود پیاس کے ہاتھوں دم توڑ رہا ہے۔

ماضی میں صوبے کی تمام زرعی زمینیں نہ صرف دریائے سندھ سے سیراب ہوتی تھیں بلکہ تمام چھوٹے بڑے شہروں کو یہیں سے ’آبِ حیات‘ ملاکرتا تھا۔ مگر آج یہ دریا کم اور جوہڑ زیادہ نظر آتا ہے ۔مقامی افراد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سن 2010ء سے یہاں پانی آیا ہی نہیں جس کے سبب دریا پہلے تالاب میں بدلا اور اب گندے پانی کا جوہڑ بنا ہوا ہے۔ دریا کے کنارے جمنے والی کائی کی موٹی موٹی تہیں اس بات کا ثبوت ہیں اور اوپر تصویر میں بھی یہ کائی نمایاں ہے جو دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔

دریا کے تالاب میں تبدیل ہونے کا احساس انسانوں کے ساتھ ساتھ شاید جانوروں کو بھی بخوبی ہے۔ دریا میں بھینسیں دن بھر نہاتی اور تیرتی نظر آتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دریا انتہائی آلودہ ہوگیا ہے۔ جانوروں کی غلاظت پانی میں شامل ہورہی ہے جس سے آبی حیات کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔

’انڈس ریور سسٹم اتھارٹی‘ (ارسا) کے حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ دریا کی خشکی نے جانوروں کو دریائے سندھ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چہل قدمی کا راستہ فراہم کر دیا ہے۔ بھینسوں کی کثیر تعداد سے واضح ہوتا ہے کہ دریا کی آلودگی کا عمل بہت تیزی سے جاری ہے۔ اگر یہی حال رہا تو دریا کے سبب بننے والے قدرتی مناظر تک ناپید ہو جائیں گے۔۔۔ اور شاید اگلی نسلیں دریائے سندھ کی موجودگی کے آثار پر ’ریسرچ‘ کرتی رہ جائیں گی۔

یہ کوٹری کے مقام پر دریائے سندھ کا تازہ ترین منظر ہے۔ دریا میں پانی سامنے کے رخ سے آتا تھا اور کوٹری پل کی جانب بڑھ جاتا تھا۔ مگر اب عقب میں ریت ہی ریت اڑتی نظر آتی ہے۔ ’پانی کا دریا‘ گویا اب ’ریت کے دریا‘ میں تبدیل ہوگیا ہے۔

مسلسل خشکی نےانسانی دلوں سے لہروں کا خوف نکال دیا ہے۔ تبھی تو یہ خواتین دریا کے عین وسط میں کپڑے دھوتی نظر آتی ہیں۔ ’ارسا‘ کا کہنا ہے کہ سندھ میں ان دنوں شدید گرمی پڑ رہی ہے لیکن گرمی کی شدت میں اضافے کے باوجود دریاؤں میں پانی کی آمد رکی ہوئی ہے۔

'ارسا' کے مطابق دریائے سندھ کو پانی صوبۂ پنجاب میں واقع تربیلا اور منگلا ڈیموں سے ملتا ہے۔ یہ دونوں ڈیم خود بھی پانی کی کمی جھیل رہے ہیں اور اس لیے دریائے سندھ میں پانی کی آمد گھٹتے گھٹتے صرف 32 کیوسک رہ گئی ہے۔ 'ارسا' کے ترجمان خالد رانا کے مطابق تونسہ بیراج سے نکلنے والی ششماہی مرکزی نہریں مظفر گڑھ اور ڈی جی خان کینال جو اکتوبر سے اپریل تک بند کردی جاتی ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے تاحال نہیں چلائی جاسکیں۔

دریائے سندھ کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے انہیں مدِ نظر رکھیں تو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ایک دور میں یہاں لوگ پکنگ منانے آتے تھے اور کشتی کے ذریعے دریا کے گہرے پانیوں کی سیر تفریح کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ یہ کشتیاں اسی دور کی نشانی ہیں۔ ملاحوں کے لیے یہ کشتیاں بڑے پیمانے پر روزگار کا سبب ہوا کرتی تھیں۔

دریا جو کبھی سیکڑوں ہزاروں افراد کی روٹی روزی کا سبب ہوا کرتا تھا آج یہاں صرف چرواہے کنارے پر بنائے گئے چھپرے کے سائے تلے بیٹھ کر پانی میں تیرتی اپنی بھینسوں پر نظر رکھتے ہیں۔ آج صرف یہی کام ان کی دن بھر کی مزدوری ہے۔

بڑوں نے تو پکنک منانا کب کا چھوڑ دیا لیکن بہت سے بچے جو پہلے کبھی دریا کا سیر سپاٹا نہیں کرسکے وہ آج بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن اب دریا کی سیر میں وہ مزے کہاں۔ اب کنارے پر جمع کائی میں چلتی کشتیاں چلیں بھی تو ٹھہرے ہوئے پانی کی بو بہت ناگوار گزرتی ہے۔

یہ منظر دریائے سندھ سے نکلنے والی ایک نہر کا ہے۔ یہ نہر نہ صرف آس پاس کی زمینوں کو سیراب کرتی ہے بلکہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے شہر کو بھی اسی نہر سے پانی فراہم ہوتا ہے۔ لیکن نہر کا حال بھی دریا سے کچھ مختلف نہیں۔ یہاں بھی جا بجا بچے پانی میں نہاتے اور خواتین کپڑے دھوتی نظر آتی ہیں۔

مکئی کی فصل کا ایک منظر جو نہری پانی سےسیراب ہوئی۔ سندھ پہنچنے سے پہلے پہلے دریا سے نکلنے والی مرکزی نہریں جنوبی پنجاب کے اضلاع مظفر گڑھ اور راجن پور کی لاکھوں ایکٹر اراضی کو سیراب کرتی ہیں۔ پانی کی بندش سے تحصیل کوٹ ادو کی درجنوں برانچ نہروں سے پانی کی فراہمی معطل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف صوبہ سندھ ہی نہیں پورا ملک پانی کے بحران میں مبتلا ہے۔ 'ارسا نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو آئندہ فصلوں کو پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’ایکسئن 32 تونسہ میران' چوہدری فیصل مشتاق کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کم چھوڑا جارہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے فصلیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی موجودہ فصل کو بھی پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پانی کے بحران کے سبب کھیت پیاسے رہ گئے ہیں۔ زرعی اراضی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ کوٹری کے ایک کاشت کار محمد اعجاز نے وی او اے کو بتایا کہ اس بار’ کنک‘ کی فصل کو بھی پوری طرح پانی نہیں مل پایا جب کہ لوکی کی فصل میں پھول تو آگئے ہیں لیکن پانی اب بھی کم آتا ہے۔ اور یہ پانی بھی کب تک چلے گا، اس کا کچھ پتا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG