رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی حکومت نے یہ اعلان مصری حکومت کی جانب سے کئی جمہوریت پسند امریکی تنظیموں کے خلاف کی جانے والی مقدمہ بازی کے باوجود کیا ہے جس میں کئی امریکی امدادی اہلکار بھی ملزم ہیں

امریکہ کی شہری تنظیموں نے واشنگٹن کی جانب سے مصرکو ایک ارب ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد دینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی قانون سازوں نے اس سالانہ امداد کی فراہمی مصر کی حکمران فوجی کونسل کی جانب سے اقتدار کی سول حکومت کو منتقلی کی طرف پیش رفت اور دیگر جمہوری اصلاحات سے مشروط کر رکھی ہے۔

لیکن امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے گزشتہ ماہ اس شرط سے صرفِ نظر کرتے ہوئے "امریکہ کی قومی سلامتی کے تقاضوں" کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مصر کویہ امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حکومت نے یہ اعلان مصری حکومت کی جانب سے کئی جمہوریت پسند امریکی تنظیموں کے خلاف کی جانے والی مقدمہ بازی کے باوجود کیا ہے جس میں کئی امریکی امدادی اہلکار بھی ملزم ہیں۔

ایسے کئی امدادی اہلکاروں کو مصری حکام کے ہاتھوں گرفتاری سے بچنے کے لیے رواں برس کے آغاز میں قاہرہ کے امریکی سفارت خانے میں پناہ لینا پڑی تھی جس کے بعد مصری حکومت کی اجازت سے انہیں ملک سے نکال لیا گیا تھا۔

امریکی ادارے 'فریڈم ہاؤس' کی مشرقِ وسطیٰ شاخ کے سربراہ چارلس ڈن پر بھی مصری حکام نے غیر ملکی پیسہ استعمال کرکے مصر کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

چارلس امریکی حکومت کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ ان کے بقول امریکی حکومت نے یہ فیصلہ غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے جاری بحران پر مصریوں کے ساتھ کسی معاہدے کے حصول کے بغیر ہی کرڈالا ہے۔

ان کے بقول، اس کا مطلب ہے کہ وہ اور ان جیسے تمام امریکی رضاکار بدستور مصری حکومت کی نظر میں ملزم ہیں اور ان کے خلاف عائد الزامات برقرار ہیں۔

XS
SM
MD
LG