رسائی کے لنکس

logo-print

قاہرہ: اخوان المسلمون کے رہنمائوں سمیت 75 افراد کو موت کی سزا


مصر کی ایک عدالت نے 75 افراد، جن میں اخوان المسلمون کے رہنما بھی شامل ہیں، موت کی سزا؛ جب کہ 47 دیگر افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

اُن پر سنہ 2013 میں اخوان المسلمون کی جانب سے دیے گئے دو دھرنوں کے کیمپوں کو منتشر کرنے کے دوران خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔ تاہم، یہ سزائیں حتمی نہیں، جن پر اپیل ہوسکتی ہے۔

جب سزائیں سنائی جا رہی تھیں، اُس وقت کمرہ عدالت میں چپ چھائی ہوئی تھی چونکہ مبصرین پر یہ بات واضح تھی کہ سزائیں حتمی نہیں ہیں جن پر بلاشک اپیل کی جائے گی۔

انسانی حقوق کے گروہوں نے، جن میں 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' شامل ہے، مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اِنہیں 'ذلت آمیز' اور ملک کے آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔

حسین بومی کا تعلق تیونیسیا سے ہے، جو ایمنسٹی کو مصر کے مقدمات کی اطلاعات بھیجتے رہے ہیں۔ اُنھوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ مقدمے کی کارروائی قانونی ضابطوں کے تحت نہیں ہوئی، چونکہ مجرموں کےخلاف واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جن جرائم کے ارتکاب کا ان پر فرد جرم عائد تھا۔

ایمنسٹی نے بھی مصر کی حکومت پر تنقید کی ہے کہ اس نے ملک کی سلامتی افواج کو کسی جرم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا؛ جن کے ہاتھوں دھرنے کے کیمپوں میں 900 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سال کے اوائل میں مصر کے پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا جس میں قاہرہ کے ربعہ اور نھضہ کے علاقوں میں قائم کیمپوں میں 2013ء میں ہونے والے احتجاج پر اقدام کےسلسلے میں فوج اور پولیس کی کارروائی کو جائز قرار دیا گیا تھا۔

سعید صادق 'سیاسی سماجیات' کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ اُنھوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ سلامتی افواج پر حملہ کیا گیا جس پر اُنھوں نے اپنے بچائو میں کارروائی کی، جنہیں پہلے احتجاج کرنے والے مظاہرین نے مارا، جب کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے دفاع میں اقدام کیا۔

صادق کے خیال میں کثیر تعداد میں موت کی سزائیں دینے پر عمل درآمد ممکن نہیں لگتا، اور یہ کہ حکومت زیادہ تر یہ اقدام انسداد دہشت گردی کی جاری حکمت عملی کے لیے کر رہی ہے۔

بہت سارے مبصرین جو معروف فوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید کے مقدمے کی پیروی پر نگاہ رکھے ہوئے تھے، جنہیں ذرائع ابلاغ میں 'شوکن' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اُنہیں یہ بات سن کر مسرت ہوئی کہ اُنھیں پانچ سال کی نسبتاً کم سزا دی گئی۔ وہ پہلے ہی سزا کی یہ میعاد جھیل چکے ہیں، جس بنا پر وہ بری ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG