رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: صدارتی محل کے سامنے مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں


مصری فوج کے دستوں نے قاہرہ کے داخلی راستوں پر پہرا لگادیا ہے جب کہ صدارتی محل کے آس پاس بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدارتی محل کے سامنے جمع ہونے والے حزبِ اختلاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جب کہ ملک کے چند دیگر شہروں میں بھی حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔

جمعے کو ہونے والے مظاہروں کی اپیل حزبِ اختلاف کی سیکولر اور لبرل جماعتوں کے اتحاد 'نیشنل سالویشن فرنٹ' نے کی تھی۔

جمعے کی نماز کے بعد سے ہی حزبِ مخالف کے کارکنوں نے دارالحکومت کے 'تحریر چوک' اور صدارتی محل کے سامنے جمع ہونا شروع کردیا تھا تاہم سرد موسم اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث مظاہرین کی تعداد نسبتاً کم تھی۔

مظاہرین نے سورج ڈوبنے کےبعد صدارتی محل کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روکا جس پر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

مظاہرین نے پولیس پر پٹرول بم پھینکے اور پتھرائو کیا جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل برسائے اور پانی کی توپ سے ان کی دھلائی کی۔

عرب نشریاتی اداروں پر چلنے والی ویڈیوز میں صدارتی محل کے نزدیک مظاہرین کی جانب سے جلائی جانےو الی اشیا سے آگ کے شعلے اٹھتے دکھائے گئے ہیں جب کہ فضا میں ہر طرف دھواں پھیلا ہوا تھا۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز صدارتی محل اور دیگر سرکاری عمارات کے تحفظ کے لیے "ہر ممکن حد تک جائیں گی"۔

عرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مصری فوج کے دستوں نے قاہرہ کے داخلی راستوں پر پہرا لگادیا ہے جب کہ صدارتی محل کے آس پاس بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔

دریں اثنا سوئز کنال کے کنارے واقع مصر کے شہر پورٹ سعید میں بھی جمعے کی نماز کے بعدسیکڑوں مظاہرین نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین صوبائی حکومت کے صدر دفتر کے سامنے جمع ہوئے تاہم پولیس اور فوج کی بھاری نفری کی موجودگی کے باعث انہوں نے عمارت پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔

مصر میں ماضی قریب میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں کئی شہروں میں مظاہرین کی جانب سے سرکاری عمارات پر دھاوا بولنے اور انہیں نذرِ آتش کرنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

احتجاج کا حالیہ سلسلہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے طویل آمرانہ اقتدار کے خلاف چلنے والی کامیاب احتجاجی تحریک کی دوسری سال گرہ کے موقع پر شروع ہوا تھا جو دو ہفتے قبل منائی گئی تھی۔

حزبِ اختلاف کے رہنما صدر مرسی سے قومی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں کابینہ میں وزارتیں ملیں گی۔

تاہم صدر مرسی کے اتحادی حزبِ اختلاف کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ حزبِ مخالف اس مطالبے کے ذریعے اقتدار میں حصہ چاہتی ہے جو اسے انتخابات کے نتیجے میں نہیں مل سکا۔
XS
SM
MD
LG