رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: صدارتی انتخاب میں ووٹروں کی گہما گہمی کا فقدان


مصر

ووٹنگ کا آغاز پیر کے روز ہوا جو بدھ تک جاری رہے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ صدر عبد الفتح السیسی کامیاب ہوں گے۔ اُن کے مقابلے میں ایک ہی امیدوار موسیٰ مصطفیٰ موسیٰ انتخاب لڑ رہے ہیں، جو اس سے قبل سیسی کو ایک بار پھر توثیق دینے کی تائید کر چکے ہیں

مصر کے سہ روزہ صدارتی انتخابات کے دوسرے روز بھی پولنگ جاری رہی، جس دوران کچھ ووٹر پُرجوش تھے، جب کہ دیگر علاقوں میں سرد مہری سی چھائی رہی۔

صوبہٴ قلوبیہ کے قصوص کے قصبے میں ’پریڈ روٹ‘ لگا ہوا تھا، جہاں شائقین قطار میں کھڑے تھے، جب کہ بینڈ دھنیں بجا رہا تھا۔

چند سو افراد تالیاں بجا رہے تھے، جب کہ شائقین جمع تھے، ایسے میں جب ایک قریبی پولنگ اسٹیشن میں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے تھے۔

مصر کے ذرائع ابلاغ نے خاصے ٹرن آؤٹ کی بات کی ہے، جب کہ مقامی اخباری نمائندوں نے مصر کے دوسرے بڑے شہر، الگزینڈریہ میں ’’ووٹروں کی بڑی تعداد‘‘ کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی خبر دی ہے، جب کہ سیاحوں میں مقبول جنوبی القصر کے مقام پر ووٹروں کی تعداد بہت کم تھی، جہاں سخت لُو چل رہی تھی اور لوگوں کی پولنگ میں دلچسپی نہیں تھی۔

قاہرہ کے چند پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹر جمع تھے، جب کہ ایسے بھی پولنگ اسٹیشن تھے جو خالی تھے۔

صوبہٴ کفر الشیخ کے علاقے کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ منگل کے روز ووٹ دینے والوں کی تعداد کم تھی، حالانکہ اُنھوں نے بتایا کہ جب درجہٴ حرارت میں کمی آئے گی، شام کو ووٹروں کی تعداد بڑھنے کی توقع ہے۔

ووٹنگ کا آغاز پیر کے روز ہوا جو بدھ تک جاری رہے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ صدر عبد الفتح السیسی کامیاب ہوں گے۔ اُن کے مقابلے میں ایک ہی امیدوار موسیٰ مصطفیٰ موسیٰ انتخاب لڑ رہے ہیں، جو اس سے قبل سیسی کو ایک بار پھر توثیق دینے کی تائید کر چکے ہیں۔

مصر میں انسانی حقوق کی قومی کونسل کے سربراہ، محمد فائق نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’بغیر کسی خاص خامی کے، ووٹنگ جاری ہے‘‘۔ لیکن، ’’کچھ ووٹروں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ اُنھیں نہیں معلوم کہ اُن کا ووٹ کہاں درج ہے‘‘۔

قاہرہ کے علاقوں میں سیسی کے حامی دکھائی نہیں دیے، جو جھنڈیاں اٹھائے ہوئے ہوں یا رنگ برنگی لباس میں ملبوس ہوں، جو اُن شہریوں کا حوصلہ بڑھائے کہ وہ باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG